کوئٹہ 28 فروری(اے پی پی ): وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں جمعہ کو امن و امان اور قومی شاہراہوں کی غیر قانونی بندش سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے مطابق اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ زاہد سلیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یکم جنوری سے اب تک 76 مرتبہ قومی شاہراہوں کی بندش کے واقعات رونما ہوئے ہیں، شاہراہوں کی بندش سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تسلسل سے شاہراہوں کی بندش کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی روک تھام کیلئے موثر حکمت عملی مرتب کرنے کا حکم دیا ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسے تمام اضلاع جہاں روڑز کی بندش تاحال جاری ہے وہاں فوری طور پر شاہراہیں بحال کی جائیں بصورت دیگر متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی ہوگی، وزیر اعلیٰ نے صوبے میں ایک بار پھر دفعہ 144 نافذ کرنے کے احکامات جاری کئے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے لیکن قومی شاہراہوں کو بلاک کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ بعض عناصر خواتین اور بچوں کو ڈھال بنا کر مسافروں کو تنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ناقابل قبول ہے اور اس قسم کی سرگرمیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ زاہد سلیم، آئی جی پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہدایت کی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شاہراہوں کی غیر قانونی بندش کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی اپنائیں اور عوام کی مشکلات کا فوری ازالہ کریں۔