اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت سستی ہاؤسنگ فنانس اسکیمز سے متعلق اہم اجلاس

23

اسلام آباد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں سستی ہاؤسنگ فنانس اسکیمز پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری منصوبہ بندی اویس منظور سمرا، وائس چانسلر پائیڈ ڈاکٹر ندیم جاوید، گورنر اسٹیٹ بینک، نجی بینکوں کے سی ای اوز، پاکستان مارگیج ریفائنانس کمپنی (PMRC) اور نیشن وائیڈ بینک آف پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں سنگاپور، جنوبی افریقہ، ترکی، بنگلہ دیش، برازیل اور بھارت کے کامیاب مارگیج ماڈلز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پنجاب حکومت اپنا الگ ہاؤسنگ رول آؤٹ پروگرام شروع کرنے جا رہی ہے۔

وزارت منصوبہ بندی کے رکن انفراسٹرکچر وقاص انور نے مجوزہ فنانشل فریم ورک پیش کیا۔ احسن اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لانگ ٹرم ہاؤسنگ فنانسنگ کی عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2017-18 میں اس ضمن میں اہم پیشرفت ہوئی تھی لیکن حکومتی تبدیلی کے باعث یہ منصوبے تعطل کا شکار ہو گئے۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ جیسے نجی بینکوں نے آٹو لیزنگ متعارف کرائی، ویسے ہی ہاؤسنگ لیزنگ کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام عمر بھر کرایہ دیتے رہتے ہیں مگر اپنے گھر کا خواب حقیقت نہیں بن پاتا، اور مارگیج نظام کے ذریعے اس خواب کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ تین مرلے کے گھروں پر حکومت سبسڈی دے سکتی ہے جبکہ دس مرلے یا اس سے بڑے گھروں کے لیے بینک فنانسنگ ماڈل خود تیار کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بینکوں کو سو فیصد گارنٹی دینے کو تیار ہے تاکہ ان کی سرمایہ کاری محفوظ رہے۔

نجی بینکوں نے اجلاس میں احسن اقبال کی تجاویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ وہ ہاؤسنگ فنانسنگ فریم ورک کی تشکیل میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ فنانسنگ ماڈل کو مربوط، مؤثر اور عوام دوست ہونا چاہیے تاکہ ہاؤسنگ سیکٹر میں انقلابی تبدیلی لائی جا سکے۔