جام کمال خان کی زیر صدارت نیشنل کمپلائنس ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس، برآمدات کے معیار اور مسابقت میں بہتری پر زور

14

اسلام آباد، 05مئی (اے پی پی): وزارت تجارت کے تحت ای ڈی ایف فنڈڈ منصوبے نیشنل کمپلائنس سینٹر (NCC) کے لیے نیشنل کمپلائنس ایڈوائزری کونسل (NCAC) کا پہلا اجلاس بروز پیر  وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان نے بھی شرکت کی۔NCAC ایک رہنما ادارہ ہے جو نیشنل کمپلائنس سینٹر (NCC) کی رہنمائی کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔اس میں صنعت، برآمدی ایسوسی ایشنز، ایف پی سی سی آئی، بین الاقوامی شراکت داروں، ایچ ای سی، صوبائی نمائندوں اور متعلقہ وفاقی وزارتوں کے نمائندے شامل ہیں۔

اجلاس میں وزارت تجارت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل نے NCC کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی، جبکہ ہیڈ آف کمپلائنس ڈاکٹر نبیل امین نے ادارے کی پیش رفت، آئندہ منصوبہ بندی، مستقبل کا روڈ میپ اور منظوری کے لیے ایجنڈا پیش کیا۔NCC کا بنیادی مقصد پاکستان کی برآمدات کو تمام شعبوں بشمول خدمات، صنعت، معدنیات اور زراعت میں فروغ دینا ہے۔ادارے کی دیگر ترجیحات میں ملک بھر میں معیارات کو عالمی ESG فریم ورک، OSH، پائیداری، SDGs، ٹریس ایبلٹی، نیشنل کوالٹی انفراسٹرکچر، ایکریڈیٹیشن اور پیداواریت کے مطابق ہم آہنگ کرنا شامل ہے، جو قومی و بین الاقوامی اداروں، چیمبرز، برآمدی ایسوسی ایشنز اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے کیا جائے گا۔NCC کی ماہرین پر مشتمل ٹیم، ریسرچ ایسوسی ایٹس، ایڈمنسٹریشن اور آؤٹ ریچ ٹیم نے شرکاء اجلاس کا پرتپاک استقبال کیا۔

پیش کردہ بریفنگ میں پاکستان کی برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے کی اہم ضروریات اور تقاضوں کو اجاگر کیا گیا، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (SMEs) اور مصنوعات کی سطح پر بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔NCAC نے NCC کے دائرہ کار اور مینڈیٹ کی منظوری دی اور ادارے کی تیار کردہ حکمت عملی کی توثیق کی۔ اراکین نے NCC کی اب تک کی کارکردگی کو سراہا اور مستقبل میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اجلاس ایک نہایت مفصل اور کھلا مکالمہ تھا جس میں ایک جامع اور قابلِ پیمائش حکمت عملی کی تشکیل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اختتام پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے NCC کی کوششوں اور پیش رفت کو سراہا اور ادارے کی صوبوں تک توسیع کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔انہوں نے ڈاکٹر نبیل امین کو ہدایت کی کہ وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر کمپلائنس کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مختلف شعبوں کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دیں۔