اسلام آباد، 21 مئی(اے پی پی): ڈیلوئٹ ایڈوائزری یو ایس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے، جس کی قیادت رچرڈ لانگ اسٹاف کر رہے تھے، وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اسٹریٹجک اصلاحات، ادارہ جاتی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
رچرڈ لانگ اسٹاف نے پاکستان کے توانائی اور اقتصادی اہداف کے حصول کے لیے عالمی مہارت کے ذریعے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ڈیلوئٹ کے لیڈ ایڈوائزری پارٹنر صوفیان یوسفی نے زور دیا کہ شعبہ جاتی اور قابلِ عمل اقدامات کو ترجیح دی جائے بجائے اس کے کہ عمومی اور غیر مرکوز حکمتِ عملی اپنائی جائے۔
وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ بین الوزارتی ہم آہنگی اور ترجیحات میں واضح سمت کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے ماضی کی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مبہم اہداف اور کمزور عمل درآمد سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے ڈیلوئٹ پر زور دیا کہ وہ قومی ترجیحات جیسے برآمدات، ماحولیاتی پائیداری، اور ادارہ جاتی استعداد کے مطابق معاونت فراہم کرے۔
صوفیان یوسفی نے پاکستانی ٹیموں کے ساتھ اشتراکی ماڈل پر کام کرنے کی حمایت کی اور کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور تیاری کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کامیابی کے لیے ایک جامع حکمت عملی، واضح اہداف، اور عالمی شراکت داروں جیسے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی شمولیت ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے پانچ سالہ مدت کے لیے نئی اسٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے برآمدات میں تیزی سے اضافہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے ڈیلوئٹ کو دعوت دی کہ وہ ترجیحی شعبوں میں اپنی معاونت مرکوز کرے۔
ڈیلوئٹ کے وفد نے پاکستان کے لیے 30 سالہ صنعتی وژن کی ضرورت پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ قلیل مدتی اور منقسم حکمت عملیاں مؤثر نہیں ہوں گی۔ انہوں نے بلوچستان اور گلگت بلتستان جیسے خطوں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی کی وضاحت اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
ملاقات کے دوران ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر بھی گفتگو ہوئی۔ وفد نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ عوامی خدمات جیسے ویزہ پراسیسنگ کو بہتر بنائے تاکہ عالمی سطح پر روابط کو فروغ ملے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صارف کے تجربے کو ایک اسٹریٹجک صلاحیت کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ محض سہولت کے طور پر۔











