سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس

15

اسلام آباد۔13جون  (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس آج  چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا جس  میں فنانس بل 2025 اور سالانہ بجٹ  پر غور و خوض کا آغاز کیا گیا جبکہ  وزیرخزانہ نے  بجٹ،معاشی ترقی اور پاکستان کو درپیش جغرافیائی سیاسی چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ  یکم جولائی 2025 سے صوبے زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی شروع کریں گے،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیاگیا بلکہ 312 ارب روپے کے نئے اقدامات ٹیکس وصولی اور تعمیل کے ذریعے کئے جائیں گے جنہیں آئی ایم ایف نے بھی سراہا ہے،  ایل سیز کھولنے میں کوئی رکاوٹ نہیں وزیر خزانہ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ عالمی بینک کے ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ روز ریکوڈک منصوبے کے لئے مالی معاونت کی منظوری دے دی ہے۔آئی ایف سی اب پاکستان کو 700 ملین ڈالر کی مالی امداد فراہم کرے گا۔وزیر خزانہ نے بجٹ کوذمہ دارانہ مالی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا بلکہ 312 ارب روپے کے نئے اقدامات ٹیکس وصولی اور تعمیل کے ذریعے  کئے جائیں گے  جنہیں آئی ایم ایف نے بھی سراہا ہے۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال میں برآمدات میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا ہے،گزشتہ سال 29 ارب ڈالر کی برآمدات تھیں جواس سال صرف 11 ماہ میں 30 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ لیٹرآف کریڈٹ کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاداورحقائق کے منافی ہیں  ۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ اب ایل سیز کھولنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ،جولوگ اس کے برخلاف بول رہے ہیں   وہ غلط بیانی کر رہے ہیں۔نجکاری سے متعلق سوال پر وزیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ نجکاری کے اہداف پورے نہیں ہو سکے مگر اب پی آئی اے کونجکاری کے عمل میں  دوبارہ  شامل کر دیا گیا ہے۔زرعی ٹیکس  کے حوالہ سے وزیر خزانہ نے کہاکہ پہلے کہا جاتا تھا کہ زرعی ٹیکس نہیں لگ سکتا، اب کہا جا رہا ہے کہ نافذ نہیں ہو سکتا،ہم نافذ بھی کریں گے اور وصول بھی، بس ہمیں موقع دیا جائے۔انہوں نے اعلان کیا کہ یکم جولائی 2025 سے صوبے زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی شروع کریں گے۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے پنشن کے بوجھ میں کمی کیلئے  بیوروکریٹس کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کی تجویز دی اوربتایا کہ ساٹھ سال کا افسر ذہنی و جسمانی طور پر مکمل فٹ ہوتا ہے، ہم ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ریٹائر کر دیتے ہیں۔سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ ریٹائرڈ افسران فوراً نیم سرکاری اداروں میں شامل ہو جاتے ہیں، ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔وزیر خزانہ نے  بتایاکہ وہ جس ادارے سے آئے ہیں  وہاں ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے، بجٹ کے بعد اس تجویز کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس میں نان فائلرز کے خلاف نئی حکمت عملی کی تیاری اور کیش اکانومی کو دستاویزی شکل دینے کے اقدامات پر بھی غور ہوا۔اجلاس میں بتایاگیا کہ  بجٹ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ بیرونی دباؤ کے خلاف ایک دفاعی حکمت عملی، داخلی نظام کی اصلاح اور پائیدار ترقی کی جانب بڑھتا ہوا قدم ہے۔