اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ممالک کے ساتھ گہرے تاریخی، ثقافتی اور تزویراتی تعلقات رکھتا ہے اور تجارتی و سرمایہ کاری کے روابط کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ جمعرات کو ایف پی سی سی آئی کے زیر اہتمام”پاکستان اور آسیان خطے کے درمیان “اقتصادی انضمام” کے موضوع پر ایک تعارفی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اقتصادی روابط کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔ اس موقع پر آسیان ممالک کے سفارتکاروں، اعلیٰ سرکاری افسران، تاجر رہنمائوں اور مختلف شعبوں کے نمائندگان نے شرکت کی ۔
وفاقی وزیر نے پاکستان اور آسیان خطے کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ایف پی سی سی آئی کے متحرک صدر عاطف اکرام شیخ کی اس بروقت اور دور اندیش نشست کے انعقاد پر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ آسیان جو سات سو ملین سے زائد آبادی اور تین ٹریلین ڈالر سے زائد کے مشترکہ جی ڈی پی کا حامل ہے، عالمی معیشت میں ایک موثر بلاک کے طور پر ابھرا ہے، پاکستان آسیان ممالک کے ساتھ گہرے تاریخی، ثقافتی اور تزویراتی تعلقات رکھتا ہے اور اب تجارتی و سرمایہ کاری کے روابط کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ باہمی امکانات کے باوجود پاکستان اور آسیان کے درمیان تجارتی حجم اپنی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہے۔ انہوں نے تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے، برآمدات کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور دو طرفہ و کثیر جہتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے ٹیکسٹائل، زراعت، دواسازی، آئی ٹی اور توانائی جیسے شعبوں کو خاص طور پر اجاگر کیا جہاں باہمی تعاون کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔انہوں نے ٹیکنالوجی کے تبادلے، ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ اور ہنر مندی کی ترقی کے میدان میں تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستان آسیان ممالک کی جدت، پیشہ ورانہ تربیت اور نوجوانوں کی ترقی کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔انہوں نے عوامی روابط، سیاحت، تعلیمی تبادلوں اور ثقافتی شراکت داری کے فروغ کے لیے ویزا پالیسیوں میں نرمی کی تجویز دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی سطح پر تعلقات اعتماد سازی اور دیرپا اشتراک کے لیے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے خطے کے جغرافیائی ربط کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سی پیک کے ذریعے وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے لیے گیٹ وے کا کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ آسیان پاکستان کو مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے سے مزید جوڑ سکتا ہے۔
اپنی گفتگو میں وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان خطے میں اقتصادی انضمام اور تجارتی سفارتکاری کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے ایف پی سی سی آئی، ای سی او سی سی آئی اور سی اے سی سی آئی جیسے اداروں کے کردار کو سراہا جو علاقائی تعاون اور کاروباری شراکت داری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نشست محض ایک مکالمہ نہیں بلکہ مشترکہ ترقی، علاقائی استحکام اور باہمی خوشحالی کی سمت ایک واضح روڈ میپ ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے تمام شرکا پر زور دیا کہ وہ رسمی معاہدوں سے آگے بڑھتے ہوئے مشترکہ منصوبے، تجارتی تبادلے اور پائیدار ترقیاتی اقدامات کے نفاذ کی طرف پیش رفت کریں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان آسیان ممالک کے ساتھ مل کر جامع تجارت، تزویراتی تعاون اور دیرپا دوستی کے ایک نئے دور کے آغاز کے لیے تیار ہے۔











