اسلام آباد، 3جولائی(اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل ٹاسک فورس برائے مصنوعی ذہانت (AI) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی شعبوں میں AI کے انضمام کے لیے ایک تفصیلی اور جامع قومی حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت میں تیزی سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بھی واضح وژن اور عزم کے ساتھ آگے بڑھے۔ وزیرِ منصوبہ بندی نے کہا کہ AI کو تنہا فروغ نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے شعبہ جاتی اشتراک، قومی ترجیحات سے ہم آہنگی، اور اداروں کے مابین مؤثر ربط کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں ٹاسک فورس کو یہ واضح ہدف دیا گیا کہ وہ تعلیم، صحت، زراعت، موسمیاتی تبدیلی، کاروبار اور حکمرانی سمیت بارہ اہم شعبہ جات کی نشاندہی کرے جہاں AI کے عملی اطلاق سے قومی سطح پر قابلِ پیمائش فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ہر شعبے میں ایک کثیر فریقی ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا، جس میں حکومت، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کے ماہرین شامل ہوں گے۔ یہ گروپس ہر شعبے کے لیے مخصوص AI روڈ میپس تیار کریں گے جن میں واضح اہداف، ٹائم لائنز اور وسائل کی ضروریات شامل ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کو نہ صرف عالمی ٹیکنالوجی کے رجحانات سے ہم آہنگ کرنا ہے بلکہ ملکی مسائل کے حل کے لیے AI کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا بھی ہے۔
جدت کو فروغ دینے اور مالی رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے، وزیرِ منصوبہ بندی نے “نیشنل AI فنڈ” کے قیام کی ہدایت دی جو مصنوعی ذہانت سے متعلق اعلیٰ صلاحیت کے حامل خیالات اور پائلٹ منصوبوں کی معاونت کرے گا۔
انہوں نے ملک بھر میں AI سے متعلق دستیاب ٹیلنٹ اور وسائل کا جامع جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی۔ اس مہم کے تحت جامعات، تحقیقی مراکز اور صنعتی اداروں کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا تاکہ ان وسائل کو ایک منظم اور مربوط حکمت عملی کے تحت استعمال میں لایا جا سکے۔
وزیرِ منصوبہ بندی نے ہدایت کی کہ ٹاسک فورس پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پی اے ایس ایچ اے) اور دیگر متعلقہ صنعتی اداروں کے اشتراک سے ایک قومی AI ورکشاپ کا انعقاد کرے۔ یہ ورکشاپ حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعت کے مابین مکالمے کا پلیٹ فارم مہیا کرے گی، اور پاکستان کے ترقیاتی سیاق و سباق سے ہم آہنگ عملی AI حلوں کے ڈیزائن پر مرکوز ہوگی۔
اجلاس میں وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن محترمہ شزا فاطمہ خواجہ، نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر یاسر ایاز، وزارتِ آئی ٹی، نادرا، PASHA اور نجی شعبے کے اعلیٰ نمائندگان نے شرکت کی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وزیرِ اعظم کے وژن اور وزیرِ منصوبہ بندی کی قیادت میں پاکستان اس شعبے میں پہلے ہی نمایاں پیش رفت کر چکا ہے۔ حکومت نے بڑی جامعات میں مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا و کلاؤڈ کمپیوٹنگ، روبوٹکس، کوانٹم کمپیوٹنگ سمیت دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے نو سینٹرز آف ایکسیلینس قائم کیے ہیں، جبکہ “کوانٹم ویلی پاکستان” کے ذریعے مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کرنے کی بھی شروعات ہو چکی ہے۔
یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان عالمی AI منظرنامے میں ایک ذمہ دار، جدید، اور مربوط کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور جدت، اشتراک اور جامع حکمرانی کے ذریعے اپنی استعداد کو بروئے کار لا رہا ہے۔











