اقوامِ متحدہ، 29 جولائی (اے پی پی): اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی سیاسی و انسانی صورتِ حال پر بریفنگ کے دوران اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ شام نازک دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں سیاسی مکالمے، قومی ہم آہنگی اور بحالی کے آثار ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے خصوصی ایلچی پیڈرسن اورڈائریکٹر ووسورنو کی بریفنگز کوسراہتے ہوئے کہا کہ شمولیت، مخلصانہ مکالمہ، انسانی ضروریات اور غیر ملکی مداخلت کے خاتمے پر توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے شامی قیادت میں جامع سیاسی عمل، عبوری آئین کی منظوری اور سپریم الیکشن کمیٹی کے قیام کو خوش آئند قرار دیا اور ستمبر میں متوقع پارلیمانی انتخابات کے اعلان کو اہم پیش رفت کہا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے۔
سفیر عاصم افتخار نے یک طرفہ پابندیوں میں نرمی کے باعث بنیادی اشیاء تک رسائی کے ممکنہ فوائد کو اجاگر کیا اور کہا کہ شام کی معیشت کی بحالی اور عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے اس موقع کو تعمیری انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے شام میں غیر ملکی افواج کی موجودگی، انسانی بحران، دہشت گردی اور خودمختاری کی خلاف ورزیوں کو بڑے چیلنجز قرار دیا۔
انہوں نے السویدہ میں حالیہ پرتشدد واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور امریکا، ترکی اور عرب ممالک کے کرائے گئے سیزفائر کی مکمل حمایت کی۔ انہوں نے اسرائیلی فضائی حملوں اور مقبوضہ جولان میں سرگرمیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
سفیر نے انسانی امداد کو غیر سیاسی، مستقل اور بنیادی نظام کی بحالی کے لیے مؤثر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع حکمتِ عملی، اسلحہ ڈالنے اور جنگجوؤں کی سماجی بحالی کو دیرپا حل کا لازمی جزو قرار دیا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ شام کو پرامن مستقبل کے لیے وقت، جگہ اور عالمی تعاون کی ضرورت ہے اور سلامتی کونسل کو ایسی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے جو شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی خود ارادیت کا تحفظ کریں۔ پاکستان شامی عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے اور ایک پرامن، جامع اور خودمختار شام کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔











