وزیراعظم کے ذیابیطس کی روک تھام و کنٹرول پروگرام کی دوسری پروجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس

10

اسلام آباد، 01 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت وزیراعظم کے ذیابیطس کی روک تھام و کنٹرول پروگرام کی دوسری پروجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت صحت اور متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس پروگرام کا مقصد ملک کی 3 کروڑ 30 لاکھ آبادی کو ذیابیطس سے بچاؤ سے متعلق آگاہی دینا ہے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 6.8 ملین ڈالر ہے اور اس کا دورانیہ 5 سال پر مشتمل ہے، جو 2029 میں مکمل ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں ذیابیطس تیزی سے پھیل رہی ہے، جبکہ ٹی بی سے متاثرہ پانچ اور پولیو سے متاثرہ تین ممالک میں بھی پاکستان شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے نیشنل ایکشن پلان کی ضرورت ہے، جو تمام صوبوں کی مشاورت سے تشکیل دیا جائے۔ وفاق اور صوبے مل کر ذیابیطس سے بچاؤ کے پروگرام شروع کریں اور بہترین طریقہ کار کو یکجا کریں۔

احسن اقبال نے کہا کہ ذیابیطس تمام بیماریوں کی جڑ ہے، جو دیمک کی طرح جسم کو کھا جاتی ہے۔ حکومت نے ذیابیطس کے خاتمے کو قومی فریضہ سمجھتے ہوئے 5 سالہ منصوبہ شروع کیا ہے۔

اجلاس میں وزارت صحت نے وفاقی وزیر کو ذیابیطس کے خلاف ملک گیر میڈیا مہم سے آگاہ کیا۔ مہم کے چار بنیادی اجزاء ہوں گے، جن میں آگاہی، بچاؤ، کنٹرول اور علاج شامل ہیں۔ مہم کا ایک جزو ہیلتھ ورکرز کی تربیت اور مریضوں کی رجسٹری کی تیاری پر مشتمل ہوگا۔

وزارت صحت نے بتایا کہ مہم کے نفاذ کے لیے ایجنسیوں کی شارٹ لسٹنگ جاری ہے۔ موجودہ مالی سال میں 3000 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 800 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے آگاہی مہم جاری ہے۔

وزارت صحت کے مطابق صوبوں کے ساتھ قومی مشاورتی اجلاس 2 جولائی کو ہوگا، جس میں شریک فنانسنگ پر بات چیت کی جائے گی۔