اسلام آباد، 29جولائی(اے پی پی):وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے آج قیمتی پتھروں اور زیورات کے معروف فرانسیسی صنعتکار بارنیبی پلو رائٹ کے ساتھ اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان کے جیمز اینڈ جیولری کے شعبے میں برآمدات کے امکانات اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران سونے اور قیمتی پتھروں کی برآمدات کی دستاویزات، ویلیو ایڈیشن، اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی جیسے کلیدی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ہارون اختر خان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں اعلیٰ معیار کے قیمتی پتھروں کی بڑی مقدار موجود ہے، مگر افسوس کہ ان کی رسمی برآمدات محض چند ملین ڈالرز تک محدود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اربوں ڈالر مالیت کے جیم اسٹونز کے ذخائر موجود ہیں، لیکن تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کا سونا ہر سال غیر دستاویزی طریقے سے برآمد ہو رہا ہے۔ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ برآمدات کی عدم دستاویز بندی سنجیدہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جیمز اینڈ جیولری کی غیرقانونی تجارت سے سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
انہوں نے سونے کی برآمدات کی دستاویز سازی اور ضابطہ جاتی اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سونے کی برآمدات کو قانونی اور شفاف بنانے کے لیے درست اور مکمل دستاویزات ناگزیر ہیں تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے اور قانونی تجارت کو تقویت ملے۔
ہارون اختر خان نے یہ بھی بتایا کہ حکومت سونے اور قیمتی پتھروں کی قانونی اور ویلیو ایڈڈ برآمدات کو فروغ دینے کے لیے پالیسی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ شعبے کے تمام فریقین کے ساتھ فوری اجلاس طلب کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔











