وفاقی وزیر احسن اقبال کی گوادر اور خلیج فارس کے درمیان ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کے فوری آغاز پر زور

12

اسلام آباد،11 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، احسن اقبال کی زیر صدارت گوادر بندرگاہ کو فعال بنانے سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی نگرانی ممبر انفراسٹرکچر پلاننگ کمیشن ڈاکٹر وقاص انور نے کی، جس میں گوادر پورٹ اتھارٹی اور وزارتِ بحری امور، خارجہ، دفاع، دفاعی پیداوار، داخلہ، خزانہ، تجارت، مواصلات، ریلوے اور صنعت و پیداوار کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں گوادر بندرگاہ کی فعالیت کے لیے جامع اور مربوط منصوبہ بندی کو حتمی شکل دینے پر غور کیا گیا۔ اہم نکات میں اسلام آباد میں گوادر بندرگاہ پر بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد، مارکیٹنگ حکمت عملی کی تیاری، اور وسطی ایشیائی ممالک سمیت دیگر ممالک کی سرمایہ کاری اور تجارتی دلچسپی کے لیے سفارتی اقدامات شامل تھے۔

وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ وزارت بحری امور گوادر اور خلیج فارس کے درمیان ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کےآغاز کے لیے نجی شپنگ کمپنیوں سے رابطے میں ہے۔ابتدائی کارگو اشیاء میں معدنیات، کھجوریں، سمندری غذا اور سیمنٹ شامل ہوں گی، جن کا تعلق کان کنی، ماہی گیری اور پروسیسنگ انڈسٹریز سے ہوگا۔

احسن اقبال نے ہدایت دی کہ گوادر بندرگاہ کوبین الاقوامی روڈ شوزمیں بطور اسٹریٹجک تجارتی مرکز پیش کیا جائے، جو خلیج اور وسطی ایشیا کو جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہ کی کم لاگت تجارتی راہداری اور عالمی کاروبار کے لیے فراہم کردہ مراعات کو اجاگر کیا جائے۔

انہوں نے کہا، “پاکستان کے سفارتخانوں اور سفارتی مشنز کے ذریعے اعلیٰ معیار کا پروموشنل مواد عالمی سطح پر پھیلایا جائے تاکہ گوادر بندرگاہ کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔”

وفاقی وزیر نے گوادر کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خلیج اور وسطی ایشیا بشمول ترکمانستان، تاجکستان اور کرغزستان کے لیے مختصر ترین تجارتی راستہ ہے۔ انہوں نے گوادر کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

احسن اقبال نے وزارتِ خارجہ کو ہدایت کی کہ گوادر سے عمان تک زیرِ سمندر سرنگ کے ذریعے خلیج تعاون کونسل (GCC) اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے کے لیے چار ملکی کنسورشیم کے ذریعے پری فیزیبلٹی اسٹڈی کا آغاز کیا جائے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ فیری کنیکشن کے قیام کے لیے بھی تجاویز زیر غور ہیں، جن میں چین کے خطے میں تجارتی اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے گوادر پورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی کہ بین الاقوامی شپنگ عملے کے لیے معیاری رہائش اور تفریحی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ بار بار بندرگاہ کا رخ کریں۔ ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ عملے کے لیے فائیو اسٹار ہوٹل (پرل کانٹی نینٹل) سمیت اعلیٰ معیار کی رہائش کی سہولیات دستیاب ہیں۔

آبی زراعت کے شعبے کی ترقی پر بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کا محکمہ فشریز، چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ مشترکہ زمینی سروے اور فیزیبلٹی اسٹڈیز پر کام کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے مقامی ماہی گیروں کے مفادات کے تحفظ اور انہیں فش پروسیسنگ ویلیو چین میں شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ حکام نے بتایا کہ ماہی گیر اتحاد کے ساتھ مشاورت جاری ہے، جنہوں نے فش پروسیسنگ انڈسٹری کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے۔

وزیر کو آگاہ کیا گیا کہ چینی ٹرالر کمپنیوں کے ساتھ گوادر کو آف لوڈنگ مرکز بنانے اور فش پروسیسنگ سہولیات کے قیام کے لیے بات چیت جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا، “ماہی گیری کی صنعت کی ترقی میں مقامی ماہی گیروں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ پائیدار ماہی گیری، منصفانہ تجارتی مواقع اور ان کے روزگار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔”

وزارتِ بحری امور نے تصدیق کی کہ بندرگاہ کی فعالی سے متعلق تمام منصوبے پاکستان کی پہلی ماہی گیری اور آبی پالیسی کے مطابق ہم آہنگ کیے جا رہے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ فیری سروس کے آغاز کے لیے دو تجاویز زیر غور ہیں۔

مزید تبادلہ خیال میں بلوچستان کے لیے گوادر کو خصوصی معدنی بندرگاہ بنانے،کان کنی اوراسمَلٹنگ انفراسٹرکچر کے قیام پر بات کی گئی۔ وزارت ریلوے نے معدنی راہداری ریلوے لنک کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈی کی تکمیل کا اعلان کیا۔

حکومت بلوچستان کے نمائندے نے بتایا کہ گوادر سیف سٹی پروجیکٹ کا 30 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ مکمل منصوبہ جون 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے کا نظر ثانی شدہ پی سی ون 30 مئی 2025 کو منظور کیا گیا، جس کے لیے پی ایس ڈی پی 2025-26 میں 1,500 ملین روپے مختص کیے گئے۔

گزشتہ اجلاس میں بلوچستان حکومت کو جو کام سونپے گئے تھے، ان میں گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے لیے زمین کی نشاندہی، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کے لیے رہائشی علاقہ مختص کرنا، اور گوادر یا تربت میں سے کسی ایک کو بلوچستان کا سرمائی دارالحکومت قرار دینا شامل تھا۔ وزیر منصوبہ بندی نے تربت کو ترجیحی انتخاب قرار دیا، کیونکہ اس کی آبادی اور تجارتی بنیاد زیادہ ہے۔