پاکستان نے سماجی تحفظ کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کا آغاز کر دیا

23

اسلام آباد31 جولائی (اے پی پی ):بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے ایک اعلیٰ سطحی ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں “موبائل والٹس ادائیگی ماڈل” کے اجراء کا اعلان کیا گیا۔ یہ ورکشاپ “کیش لیس معیشت کی طرف منتقلی: بی آئی ایس پی موبائل والٹ ادائیگی ماڈل” کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس میں سینئر حکومتی نمائندگان، مالیاتی اداروں، ٹیلی کام ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔ یہ اقدام ملک میں کیش لیس معیشت اور مؤثر سماجی تحفظ کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے، جو یورپی یونین اور جرمن حکومت کے تعاون سے مستحق خاندانوں کو براہ راست، محفوظ اور شفاف ادائیگیوں کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔

ورکشاپ میں وزیر مملکت برائے خزانہ و سربراہ پرائم منسٹر ڈلیوری یونٹ بلال اظہر کیانی، چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد، اور سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے خصوصی شرکت کی۔

بلال اظہر کیانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ صرف ایک پالیسی اقدام نہیں بلکہ ایک قومی ترجیح ہے۔ بی آئی ایس پی اس وقت ملک کے لاکھوں کم آمدنی والے خاندانوں کو کفالت فراہم کر رہا ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب منتقلی شفافیت، وقار اور سہولت کو یقینی بناتی ہے اور یہ وزیرِاعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کی عملی شکل ہے۔

انہوں نے رمضان پیکج کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں موبائل والٹ کے ذریعے کامیاب ڈیجیٹل ادائیگی کی گئی، جو مستقبل کے لیے ایک مؤثر ماڈل ثابت ہوئی۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے خواتین کی مالی خودمختاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ

ہم صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر شفافیت اور وقار کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ خواتین کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کا پائلٹ منصوبہ چودہ اگست سے شروع کیا جا رہا ہے، جو ڈیجیٹل خودمختاری کی طرف ایک انقلابی قدم ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ گھر کی خاتون کو مستفید کنندہ کے طور پر نامزد کرنے کی شرط خواتین کو بااختیار بنانے کی عملی مثال ہے۔ ہر خاتون کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا پسندیدہ بینک منتخب کرے اور محفوظ بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے ادائیگی وصول کرے۔

سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے موبائل والٹس کو “مالی شمولیت کی طرف ایک بڑا قدم” قرار دیا اور کہا کہ

یہ والٹس صرف ادائیگی کا ذریعہ نہیں بلکہ خواتین کے لیے وقار، نقل و حرکت اور معاشی آزادی کی علامت ہیں۔

انہوں نے تمام شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ مالی اور ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں تاکہ فائدہ اٹھانے والے افراد بہتر طور پر اس نظام سے مستفید ہو سکیں۔

ورکشاپ کے اختتام پر ایک جامع پینل ڈسکشن کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں بینکاری، ٹیلی کام اور ترقیاتی اداروں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔ پینلسٹس نے موبائل والٹس کے نفاذ، چیلنجز اور ان کے حل کے لیے سفارشات پیش کیں۔

یہ ورکشاپ پاکستان میں ڈیجیٹل سماجی تحفظ کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوئی، جس میں بی آئی ایس پی نے اپنی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔