اسلام آباد، 31 جولائی ) اے پی پی ):وفاقی وزیر برائے تجارت، جام کمال خان نے پاکستان میں الجزائر کے سفیر ڈاکٹر ابراہیم رُمانی سے اہم ملاقات کی، جس کا مقصد پاکستان اور الجزائر کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ دینا اور افریقہ و یورپ میں پاکستان کے تجارتی اثرورسوخ کو وسعت دینا تھا۔
ملاقات میں توانائی کے شعبے میں تعاون، سرمایہ کاری کے فروغ، اور افریقہ مرکوز تجارتی نمائشوں میں شرکت جیسے اہم نکات زیر بحث آئے۔
الجزائر کے سفیر نے وزیر تجارت کو بتایا کہ الجزائر افریقہ کی تیسری بڑی معیشت بن چکا ہے اور یورپ کو گیس فراہم کرنے والا اہم ملک ہے، جو سمندر کے نیچے پائپ لائنز کے ذریعے اٹلی، اسپین اور تیونس تک توانائی پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک الجزائر میں توانائی کے شعبے میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو الجزائر کے تیل، گیس، ہائیڈروجن اور بجلی کے وسیع ذخائر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
سفیر نے مزید کہا کہ الجزائر کا جغرافیائی محلِ وقوع اور ترقی یافتہ انفراسٹرکچر پاکستان کے لیے افریقی منڈیوں تک رسائی کا گیٹ وے فراہم کرتا ہے، جہاں دس سے زائد افریقی ممالک تک زمینی و فضائی رابطے موجود ہیں، جبکہ الجزائر کے کئی افریقی اور عرب ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے بھی ہیں۔
ملاقات کے دوران سفیر نے پاکستان کو الجزائر میں 4 سے 10 ستمبر 2025 تک منعقد ہونے والی پہلی INTRA-AFRICA Trade Fair میں شرکت کی دعوت دی۔ اس بین الاقوامی نمائش میں 140 ممالک کے 2000 سے زائد نمائشی ادارے، عالمی مالیاتی ادارے، ترقیاتی بینک اور صنعتی رہنما شرکت کریں گے۔ سفیر نے زور دیا کہ پاکستان صرف تاجر کے طور پر نہیں بلکہ اسٹریٹجک سرمایہ کار کے طور پر زراعت، توانائی، آئی ٹی، اختراع، صحت اور اسٹارٹ اپس کے شعبوں میں شرکت کرے۔
وزیر تجارت جام کمال خان نے اس پیشکش کا خیر مقدم کیا اور عالمی پلیٹ فارمز کے مؤثر استعمال کے ذریعے سرمایہ کاری و تجارتی شراکت داری کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستان کی “Look Africa” پالیسی کے تحت افریقی معیشتوں کے ساتھ مؤثر تجارتی سفارت کاری کے ذریعے روابط بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینے اور نجی شعبے کی بیرونی منڈیوں تک رسائی کے لیے سرگرم ہے۔
اس وقت پاکستان اور الجزائر کے درمیان باہمی تجارت 43.93 ملین ڈالر ہے، جس میں پاکستان کی برآمدات — جن میں ٹیکسٹائل، چاول اور سرجیکل آلات شامل ہیں — 17.19 ملین ڈالر ہیں۔ جبکہ الجزائر سے درآمدات میں فاسفیٹس، کھاد اور سیمنٹ شامل ہیں۔ وزیر تجارت نے موجودہ تجارتی حجم کو نسبتاً کم قرار دیتے ہوئے اس میں حالیہ بہتری کو سراہا، خصوصاً پاکستانی کمپنیوں کی الجزائر کی نمائشوں میں شرکت میں نمایاں اضافہ — جو 2022 میں صرف 12 تھی، اب 2024 میں بڑھ کر 170 سے تجاوز کر گئی ہے۔
دونوں فریقین نے جوائنٹ بزنس کونسل (JBC) کے پہلے اجلاس کو جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا، جو 2022 میں ایف پی سی سی آئی اور الجزائر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان قائم ہوئی تھی۔ سفیر نے بتایا کہ الجزائر کا سفارت خانہ پاکستانی کاروباری حضرات کو ترجیحی بنیادوں پر فاسٹ ٹریک بزنس ویزے جاری کر رہا ہے، جو بغیر کسی تاخیر یا مرکزی منظوری کے، بار بار داخلے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
چونکہ الجزائر اپنی معیشت کو ہائیڈرو کاربن انحصار سے متنوع ترقی کی جانب منتقل کر رہا ہے، دونوں ممالک نے اس اہم موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مضبوط اور مستقبل بین اقتصادی شراکت داری قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات کا اختتام اس عزم پر ہوا کہ باہمی تجارت کو فروغ دیا جائے گا، سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا، اور افریقہ سمیت عالمی پلیٹ فارمز پر اشتراک عمل کو وسعت دی جائے گی۔











