اسلام آباد،22 جولائی(اے پی پی ): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر منعقدہ ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ایک خوفناک حقیقت بن چکی ہے، جو انسانیت کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں موسمیاتی انصاف کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے اور متاثرہ ممالک کے لیے 100 ارب ڈالر سالانہ کی فراہمی کسی قسم کی خیرات نہیں بلکہ ماحولیاتی انصاف کا تقاضا ہے۔
احسن اقبال نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ متاثرہ ممالک کے لیے کیے گئے وعدے پورے کریں اور حقیقی اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ دنیا ہمیشہ گلوبل ساؤتھ سے “ڈو مور” کا مطالبہ کرتی رہی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خود “ڈو مور” کرے۔
وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ پاکستان میں موجود 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز خطرناک حد تک تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے دریائے سندھ کا آبی نظام سنگین خطرے سے دوچار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کی شرح گزشتہ 60 برسوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، اور دریائے سندھ پاکستان کی 90 فیصد زرعی پیداوار کا انحصار ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا واضح ثبوت ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے غیر معمولی موسمی حالات، شدید سیلاب اور غذائی بحران کو جنم دیا ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کو اپنی “فائیو ایز” پالیسی اور قومی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنا دیا ہے تاکہ ماحولیاتی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ماحولیاتی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے اور متاثرہ ممالک کو ان کا حق دیا جائے۔











