اسلام آباد، 05 اگست (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جاری اصلاحاتی عمل پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم نے جی ڈی پی میں ٹیکس کلیکشن کے تناسب میں اضافے کو حکومت کے لیے قابل اطمینان قرار دیا۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور وہ خود اصلاحاتی اقدامات کی مکمل حمایت اور تحفظ کریں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اصلاحات کی راہ میں حائل سرخ فیتے اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو ختم کر کے ان کے مستقل نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم نے کسٹم کلیئرنس میں انقلابی اصلاحات کے موثر اور ملک گیر نفاذ، ٹیکنالوجی کے استعمال سے وقت کی بچت اور ادارہ جاتی کارروائیوں میں بہتری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے مل کر مربوط حکمت عملی کے تحت ایف بی آر اصلاحات کے ثمرات آئندہ مالی سال میں بھی برقرار رکھیں۔
انہوں نے ہدایت دی کہ پہلے سے عائد کردہ ٹیکسز کے موثر نفاذ سے ٹیکس کلیکشن میں مزید اضافہ ممکن ہے اور اس حوالے سے ایف بی آر، وفاقی ادارے اور صوبے مشاورت سے سٹریٹجی تیار کریں۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ ایف بی آر کے آئندہ مالی سال کے ٹارگٹس اور اصلاحاتی اہداف میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور کسٹم کلیئرنس کے اصلاحاتی نظام سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے وزارت اطلاعات و نشریات کے تعاون سے آگاہی مہم تیز کرنے کی ہدایت بھی دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا فارم آن لائن اردو زبان میں فراہم کر دیا گیا ہے جس سے تقریباً 84 فیصد فائلرز کو فائدہ پہنچے گا۔
مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر نے جولائی کے مہینے میں ٹیکس وصولی کا ہدف کامیابی سے پورا کیا ہے اور آئندہ مہینوں میں بھی مکمل اہداف کے حصول کی توقع ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں کسٹم کلیرنس کے لیے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کا قیام ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے جبکہ سینٹرلائزڈ اسیسمنٹ یونٹ (CAU) اور فیس لیس کسٹم سسٹم کے مکمل نفاذ سے کسٹم کلیئرنس کو شفاف اور مستعد بنانے میں مدد ملے گی۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ ایف بی آر اور کسٹم کلیئرنس میں اصلاحات کے لیے پالیسی فریم ورک، حکمت عملی میں تبدیلی اور مختلف شعبہ جات میں اقدامات مقررہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اکنامک افیئرز احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل آف پاکستان، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











