لاہور/ننکانہ صاحب ،27 اگست(اے پی پی): دریائے راوی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث درمیانے درجے کا سیلاب درپیش ہے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ایل ڈی اے، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، سول ڈیفنس، پولیس اور پاک فوج سمیت تمام ادارے مکمل الرٹ اور باہمی کوآرڈینیشن میں ہیں۔ ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے دریائے راوی کا دورہ کیا اور ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ایل ڈی اے انجینئرنگ ٹیم اور مشینری ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے، عملہ اور مشینری دریائے راوی کے اطراف 24 گھنٹے ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مکمل تعاون کریں۔ ننکانہ صاحب میں ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ اور ڈی پی او فراز احمد کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں پاک فوج، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور تمام ضلعی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک 1050 سے زائد افراد اور دو ہزار سے زائد مال مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 20 ریسکیو اور 7 ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ننکانہ نے خبردار کیا کہ سیلابی علاقے خالی نہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریلیف کیمپس میں کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور جانوروں کے چارے کا وافر ذخیرہ موجود ہونا چاہیے اور ریسکیو آپریشن میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈی پی او فراز احمد نے کہا کہ ایمرجنسی صورتحال میں پاک فوج اور پولیس سول اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ موجود ہیں اور تمام محکمے قریبی کوآرڈینیشن میں کام کر رہے ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہنگامی صورتحال میں ریسکیو 1122، پولیس 15، پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 یا ضلعی کنٹرول روم سے فوری رابطہ کریں۔