رانا تنویر حسین کا ناقص بیج کے خلاف زیرو ٹالرنس کا اعلان، کسانوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ کرنے کی ہدایت

27

‎اسلام آباد ، 12 اگست  (اے پی پی ):  وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین   نے کہا ہے کہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے بیج سے متعلق قوانین کا سختی سے نفاذ، شفاف ضابطہ کاری اور بدعنوانی کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی کو اپنایا جائے گا۔

‎نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی  کے بورڈ آف گورنرز  کے چوتھے اجلاس کی صدارت  کرتے ہوئے وفاقی نے  ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فنانس اور پلاننگ کمیٹی کے قیام کی ہدایت دی جو مالیاتی گورننس کو مضبوط بنانے، وسائل کی حکمتِ عملی سے منصوبہ بندی کرنے اور آڈٹ کے لیے تیاری میں بہتری لانے کی ذمہ دار ہو گی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدام اتھارٹی میں شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنائے گا۔

‎بیج کمپنیوں کی رجسٹریشن کے معاملے پر رانا تنویر حسین نے اعلان کیا کہ تمام نئی کمپنیاں ترمیم شدہ سیڈ ایکٹ کے تحت ہی لائسنس حاصل کریں گی، جس میں ڈھانچے کی تیاری، مالی ضمانتوں اور معیار کی تعمیل کو ثابت کرنے کے لیے سخت شرائط شامل ہوں گی۔ انہوں نے پرفارمنس بانڈ کو لازمی قرار دینے اور غیر فعال یا مسلسل غیر تعمیل کرنے والی کمپنیوں کو فوری طور پر ڈی لسٹ کرنے کی ہدایت دی۔

‎بیج کے شعبے میں اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کپاس کے لیے ٹروتھ اینڈ لیبلنگ سسٹم کو پائلٹ بنیادوں پر متعارف کرانے کی توثیق کی، جسے واضح اہلیت کے معیار اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ پروٹوکولز کے ساتھ نافذ کیا جائے گا تاکہ کسانوں کو ناقص بیج سے بچایا جا سکے۔

‎کسانوں کے تحفظ کے معاملے پر، رانا تنویر حسین نے گریوینسز ریڈریسل کمیٹی (جی آر سی) کو ہدایت دی کہ بیج سے متعلق فصل کے نقصان کے دعووں کی جانچ جسمانی تصدیق، ٹیکس نمبر کی توثیق اور باضابطہ سماعت کے ذریعے جاری رکھی جائے، تاکہ درست دعووں کی فوری تلافی ممکن ہو۔

‎وفاقی وزیر نے  کہا کہ کسان کا تحفظ، بیج کے معیار میں بہتری، اور پاکستان کی زراعت کو بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ کرنا ہمارا مشن ہے جبکہ  ہم جو بھی قدم اٹھائیں گے، وہ بیج کے شعبے کو مضبوط بنانے اور ہماری زراعت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہو گا۔