اسلام آباد، 21 اگست (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت اجلاس سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی زیرصدارت منعقد ہواجس میں صحت عامہ، طبی تعلیم اور قانون سازی سے متعلق اہم امور زیر بحث آئے۔
اجلاس کا آغاز سینیٹر فوزیہ ارشد کی جانب سے ایم ڈی کیٹ کے مسائل پر بحث سے ہوا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2020 سے التوا شدہ مقدمات کے مالی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) 5 اکتوبر کو منعقد ہوگا جس میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد طلبہ شریک ہوں گے۔ چیئرمین کمیٹی نے سندھ میں پرچہ لیک ہونے اور بے ضابطگیوں کے خدشات پر مؤثر نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
اجلاس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (ترمیمی) بل 2025 اور ذہنی صحت (ترمیمی) بل 2025 پر غور کیا گیا، دونوں بل سینیٹر محمد ہمایوں مہمند نے پیش کیے۔ اراکین نے پی ایم ڈی سی کی خودمختاری اور پارلیمانی نمائندگی سے متعلق تحفظات پر بحث کی۔ وزیر صحت نے زور دیا کہ ریگولیٹری ادارے سیاسی اثر سے آزاد رہ کر شفافیت کے ساتھ کام کریں۔ پی ایم ڈی سی سے متعلق بل مزید جانچ کے لیے مؤخر کر دیا گیا جبکہ ذہنی صحت بل 2025 منظور کر لیا گیا جس میں ماہرینِ نفسیات کو ریگولیٹری دائرہ کار میں لانے کی تجویز شامل ہے۔











