محکمہ داخلہ پنجاب کا قیدیوں کے اہل خانہ کی سہولت کیلئے احسن اقدام

3

لاہور 26 اگست: ( اے پی پی ) جیل اصلاحات پروگرام کے تحت محکمہ داخلہ پنجاب کا قیدیوں کے اہل خانہ کی سہولت کیلئے نہایت احسن اقدام سامنے آیا ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کے اہل خانہ کیلئے فری الیکٹرک شٹل سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کا افتتاح چیئرپرسن ٹاسک فورس رانا منان خان اور سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے سنٹرل جیل لاہور میں کیا۔ جیلوں میں ملاقات کیلئے آنے والے اسیران کے اہل خانہ کی سہولت کیلئے فری الیکٹرک شٹل سروس جیل کے داخلی دروازے سے انتظار گاہ اور ملاقاتی شیڈ تک مفت فراہم کی گئی ہے۔ سینٹرل جیل لاہور سے شروع ہونے والی سروس کا دائرہ کار پنجاب بھر کی جیلوں میں پھیلایا جائے گا تا کہ اسیران کے اہل خانہ، خواتین، بچے اور بزرگ موسم کی شدت اور کئی کلومیٹر کے پیدل سفر سے محفوظ ہوں۔ فری شٹل سروس کے افتتاح کے بعد چیئرپرسن ٹاسک فورس رانا منان اور سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے قیدیوں کے اہل خانہ کیساتھ الیکٹرک کارٹ میں سفر کیا۔ اس موقع پر آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر، ایڈیشنل سیکرٹری پریزن عاصم رضا، ڈی آئی جی پریزن لاہور ریجن نوید رؤف اور جیل سپرنٹینڈنٹ اعجاز اصغر بھی ہمراہ تھے۔ چیئر پرسن پریزن ٹاسک فورس اور سیکرٹری داخلہ پنجاب نے قیدیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انکے مسائل دریافت کیے۔ رانا منان خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق جیلوں کو اصلاحی مراکز میں تبدیل کر رہے ہیں۔ انھوں نے جیل حفظانِ صحت اقدامات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قیدی کی صحت کو جانچنے کیلئے جیل داخلے کے وقت تمام اسیران کی میڈیکل سکریننگ کی جاتی ہے۔ شٹل سروس کے بارے انھوں نے واضح کیا کہ پہلے مرحلے میں لاہور اور نارووال میں فری شٹل سروس کا آج آغاز ہوگیا ہے جس کا دائرہ کار پنجاب بھر کی جیلوں میں پھیلایا جائے گا۔ اس موقع پر سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ اسیران سے ملاقات میں سہولت کیلئے جلد “ملاقات ایپ” لانچ کر رہے ہیں جس کی مدد سے اسیران کے اہل خانہ گھر بیٹھے آن لائن ملاقات کا وقت لے سکیں گے۔ سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے انتظامی امور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس سال پنجاب کی جیلوں میں 6 ہزار قیدیوں کی گنجائش کا اضافہ کر رہے ہیں۔ لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں خواتین کی جیلیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسیران کو اہل خانہ سے بات کرنے کیلئے پی سی او سروس بھی فراہم کی جارہی ہے جبکہ سیف جیل منصوبے کے تحت پنجاب بھر کی جیلوں میں 12 ہزار جدید کیمرے، سکینرز اور جیمرز بھی نصب کئے جائیں گے۔