لاہور۔25اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ جس طرح صنعتی انقلاب نے دنیا کو بدل دیا تھا،اسی طرح مصنوعی ذہانت (اے آئی)پاکستان میں نظامِ حکمرانی اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کو نئی جہت دے گی،اے آئی اب کوئی سائنس فکشن نہیں رہا بلکہ پاکستان کیلئے یہ بقا اور ترقی کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ان خیا لا ت کا اظہار انہوں نے سوموار کو نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (این ایس پی پی)میں ’’پبلک پالیسی اور گورننس میں مصنوعی ذہانت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ تیسری قومی کانفرنس سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔جس کا اہتمام نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی (این آئی پی پی) نے این ایس پی پی کے اشتراک سے کیا۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ تعلیم، صحت، تجارت، تحقیق اور ٹیکنالوجی جیسے میدانوں میں اے آئی کے ذریعے بڑے معرکے سر کئے جا سکتے ہیں،اگر سول سروس کی دانش کو اے آئی کی طاقت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو 2035 تک پاکستان کو خوشحال،جدید اور عالمی سطح پر مسابقتی معیشت بنایا جا سکتا ہے جس سے ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ این ایس پی پی اور دیگر اداروں میں فوری طور پر افسران کیلئے اے آئی ٹریننگ سینٹرز قائم کئے جائیں تاکہ ان کی استعدادِ کار میں اضافہ ہو،ساتھ ہی انہوں نے اسٹارٹ اپس، جامعات اور صنعت کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے گورننس کیلئے مشترکہ حل تیار کرنے پر زور دیا۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ اے آئی میں اخلاقی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،اگر الگورتھمز منصفانہ نہ ہوں تو نتائج بھی جانبدار آئیں گے۔ پاکستان جیسے متنوع ملک میں لازم ہے کہ الگورتھمز شفاف اور غیر جانبدار ہوں،ڈیٹا درست،بروقت اور اپ ڈیٹ ہو تاکہ حقیقی نتائج حاصل کئے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسی نسل ہیں جس نے ’’تختی‘‘ سے 5 جی تک کا سفر دیکھا اور آنے والے برسوں میں تبدیلی کا عمل مزید تیز ہو گا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، بائیو ٹیکنالوجی، آٹومیشن، روبوٹکس اور مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹنگ تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی لے کر آئیں گی۔احسن اقبال نے کہا کہ 2017 میں ملک میں نیشنل سینٹرز آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس،سائبر سکیورٹی، بگ ڈیٹا، روبوٹکس، جینومکس، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور اپلائیڈ میتھمیٹکس قائم کئے گئے جو ملک بھر کی8 سے10 انجینئرنگ یونیورسٹیوں سے منسلک ہیں۔ان اقدامات کے نتیجے میں آج پاکستان میں انسانی وسائل اور علم پر مبنی ایک مضبوط ماحولیاتی نظام موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت حکومت کوانٹم ویلی، نیشنل انوویشن فنڈ اور اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بنا رہی ہے،ساتھ ہی پہلی ڈیجیٹل اکنامک مردم شماری کے ذریعے71 لاکھ اداروں کا ڈیٹا جمع کیا گیا ہے جو شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کیلئے معاون ہے۔وزیر منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ ہر وزارت کو2027 تک کم از کم ایک بنیادی شعبے میں اے آئی اپنانا چاہیے تاکہ بعد ازاں اسے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ امن و سیاسی استحکام اور اصلاحات کے عزم کے بغیر کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔تقریب سے وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی و ہم آہنگی مصدق مسعود ملک نے کہا کہ اے آئی کا اصل استعمال اس کے عملی اطلاق میں ہے،خصوصا ًموسمیاتی شعبے میں جہاں’’ارتھ انٹیلی جنس،بائیو ریزیلیئنس، کلائمیٹ سیف انفراسٹرکچر اور کمیونٹی اینڈ گورننس‘‘ جیسے پلیٹ فارمز پر کام کیا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ جیسے موسمیاتی تبدیلی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے،ہمیں مضبوط اور پائیدار نظام بنانے کیلئے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔اس سلسلے میں زمین سے متعلق معلومات کے لیے اے آئی ایجنٹس کا استعمال،موسمیاتی تغیرات کی نگرانی،جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے حیاتیاتی لچک،موسمیاتی لحاظ سے محفوظ انفراسٹرکچر، کمیونٹی اور حکمرانی کے نظام کی تشکیل جیسے اقدامات کے ذریعے ہم ایک پائیدار اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط ملک کی تعمیر میں مدد دے سکتے ہیں۔ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کارکردگی، جدت اور معاشی ترقی کیلئے نئے مواقع فراہم کرتی ہے،لیکن اس کے ساتھ شفافیت، مساوات، حکمرانی اور ادارہ جاتی تیاری جیسے اہم سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔بحث میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایسے ضابطہ جاتی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو جدت اور حفاظتی اقدامات کے درمیان توازن قائم کرےتاکہ اے آئی کا استعمال سماجی فلاح، معاشی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنا سکے۔این ایس پی پی کے ریکٹر ڈاکٹر محمد جمیل آفاقی نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک ایسا تصور ہے جو بیک وقت جوش، حیرت اور خدشات پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس محض ایک تقریب نہیں بلکہ علم کے سفر میں ایک سنگ میل ہے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی کے ڈین ڈاکٹر نوید الہی نے بھی اظہار خیال کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال کو سووینئر بھی پیش کیا گیا۔کانفرنس میں شرکت کرنے والوں میں ریکٹر این ایس پی پی ڈاکٹر محمد جمیل آفاقی، ڈین ڈاکٹر نوید الہی، بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید شفقت،سینٹر فار پبلک پالیسی اینڈ گورننس، ایف سی کالج یونیورسٹی ڈاکٹر عمران حمید شیخ، ڈائریکٹر جنرل محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب ڈاکٹر شجاعت علی، سابق وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر صفدر اے سہیل،سابق وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر ابیحہ زہرہ،چیئرپرسن، شعبہ حکمرانی اور عالمی مطالعات، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی، مجیب الرحمٰن شامی ، حفیظ اللہ نیازی اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی ڈاکٹر سعید الہٰی اور مبین الدین قاضی قانون دان شا مل تھے ۔کانفرنس میں مختلف وفاقی و صوبائی محکموں سے تعلق رکھنے والے محققین، ماہرین اور افسران نے بھی شرکت کی۔











