اسلام آباد، 17 اگست (اے پی پی): نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں مون سون بارشوں کی شدت میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں سال مون سون میں گزشتہ برس کی نسبت 50 سے 60 فیصد زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئیں، جن کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں فلیش فلڈنگ اور شدید نقصانات ہوئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹر میں میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، مسلح افواج اور تمام متعلقہ ادارے متاثرہ افراد کی مدد میں مصروف ہیں جبکہ سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی بحالی اولین ترجیح ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کے تین سلسلے پاکستان میں داخل ہوں گے جو ستمبر کے اوائل تک جاری رہ سکتے ہیں۔ ادارے کی پیش گوئی کے مطابق شمالی پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، بلوچستان اور سندھ کے کئی علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس وقت دریائے سندھ اور دریائے چناب سمیت دیگر دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے جس سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، فوج اور دیگر ادارے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں میں مشترکہ طور پر سرگرم عمل ہیں۔











