وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان سے پروفیسر نک لی کی ملاقات، صنعتی پالیسی اور یونٹس کی بحالی پر تبادلہ خیال

15

اسلام آباد: 5 اگست (اے پی پی): وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے ممتاز برطانوی ماہرِ اقتصادیات پروفیسر نک لی نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی مجوزہ صنعتی پالیسی، بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی، برآمدات میں اضافے اور صنعتی شعبے کی مجموعی بہتری سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران ہارون اختر خان نے بتایا کہ صنعتی پالیسی کے نفاذ کے لیے تجاویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور یہ مرحلہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس پالیسی کی تشکیل کے عمل میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے مختلف ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ صنعت سے وابستہ تمام فریقین کی آراء شامل کی جا سکیں۔ صنعتی پالیسی میں قوانین میں ترامیم، بیمار یونٹس کی بحالی، اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے جامع روڈمیپ شامل ہے۔

ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں کی جانب سے سرمایہ کاروں کو ہراساں کرنے کے کلچر کا خاتمہ اور کاروباری آسانیوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (PIDC) کی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے تاکہ صنعتی شعبے میں پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے صنعتی ترقی کے لیے اسٹارٹ اپس کے فروغ، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور ایکسپورٹرز کو مراعات دینے کو بھی ناگزیر قرار دیا۔پروفیسر نک لی نے حکومت پاکستان کی صنعتی پالیسی کی سمت کو درست قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور معاون خصوصی ہارون اختر خان کی کاوشوں کو سراہا۔

 ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے مؤثر نفاذ کے لیے کیپیسٹی بلڈنگ اور اجتماعی کوششیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔