چٹاگانگ، 23 اگست ( اے پی پی): پاکستان کے وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان اور بنگلہ دیش کے مشیر برائے تجارت ایس کے بشیر الدین ایک روزہ سرکاری دورے پر چٹاگانگ پہنچ گئے ہیں جہاں ضلعی انتظامیہ اور شاہ امانت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے حکام نے ان کا استقبال کیا۔دورے کے دوران وفد نے چٹاگانگ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے ملاقاتیں کیں، بنگلہ دیشی شپ بریکنگ انڈسٹری اور چٹاگانگ پورٹ کا معائنہ کیا۔
اس موقع پر کاروباری برادری سے براہِ راست تبادلہ خیال کیا گیا، تجارتی تعاون کے نئے امکانات پر بات ہوئی اور پاکستان و بنگلہ دیش کے درمیان لاجسٹکس سہولیات کے فروغ پر غور کیا گیا۔کاروباری برادری نے پاک۔بنگلہ دیش تجارتی تعلقات پر اپنی قیمتی آراء پیش کیں اور براہِ راست پروازوں کی بحالی، دونوں ملکوں کے درمیان فری کوئنٹ شپنگ سروس اور تجارت کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق تجاویز دیں۔
وفاقی وزیر اور مشیر نے اس موقع پر بتایا کہ جلد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ’’جوائنٹ ورکنگ گروپ آن ٹریڈ‘‘ قائم کیا جا رہا ہے، جو تجارتی مذاکرات کے لیے ایک ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ ریڈی میڈ گارمنٹس، زرعی شعبے، ہیلتھ کیئر، لیدر اور اشیائے ضروریہ میں تعاون کے مواقع پر بھی بات ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں اور کاروباری برادری کو کراچی میں 25 تا 27 نومبر 2025ء کو منعقد ہونے والی ’’تیسری بین الاقوامی فوڈ اینڈ ایگریکلچر نمائش‘‘ میں شرکت کی دعوت دی۔جام کمال خان اور ایس کے بشیر الدین نے کبیر شپ ری سائیکلنگ فسیلٹیز کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں دونوں ممالک کے درمیان جہاز سازی، شپ بریکنگ اور ری سائیکلنگ کے شعبوں میں تعاون کی گنجائش کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
چٹاگانگ پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نے وفد کو پورٹ کی تاریخ، آپریشنز، جاری منصوبوں اور ’’سنگل ونڈو آپریشنز‘‘ سمیت تجارت کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔











