تہران – 18 اگست، ( اے پی پی(: وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے تہران میں غذائی تحفظ اور زرعی تعاون سے متعلق اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی، جس کے نتیجے میں پاکستان اور ایران کے زرعی تجارتی تعلقات کو نئی جہت ملی۔ وزیر کے ہمراہ ڈائریکٹر جنرل ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) اور وزارت غذائی تحفظ و تحقیق کے جوائنٹ سیکرٹری بھی شریک تھے۔ اجلاس کی صدارت ایرانی وزیر زراعت غلام رضا نوروزی نے مشترکہ طور پر کی، جس میں دونوں ممالک کے اہم وزارتوں، تحقیقی اداروں اور تجارتی حکام کے نمائندوں نے شرکت کی۔
رانا تنویر حسین نے ایران کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ اپنی چاول کی درآمدات کا بڑا حصہ پاکستان سے حاصل کرے۔ سرکاری خریداری کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی درآمدات بھی اب زیادہ تر پاکستانی چاول پر انحصار کریں گی، جس سے پاکستان کے لیے ایک مستحکم اور مسلسل برآمدی منڈی کھل گئی ہے۔ پھلوں کے برآمدکنندگان کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل کے لیے وزیر نے ٹھوس یقین دہانیاں حاصل کیں کہ آم کی برآمدات میں درپیش رکاوٹیں، خصوصاً درآمدی پرمٹ اور زرمبادلہ کی فراہمی کے مسائل جلد حل کیے جائیں گے۔ ان اقدامات کے بعد پاکستانی آم کی برآمدات ایران کو نمایاں طور پر بڑھ جائیں گی۔
وزیر نے اجلاس میں پاکستان کے لائیو اسٹاک اور گوشت کے شعبے کو بھی ترجیح دی۔ ایران اس بات پر رضامند ہوا کہ وہ گوشت کی تقریباً ساٹھ فیصد خریداری پاکستان سے کرے گا۔ اسی طرح ایران نے پاکستان سے مکئی کی بڑی مقدار درآمد کرنے پر بھی اتفاق کیا اور عزم ظاہر کیا کہ اس سے متعلقہ تکنیکی و عملیاتی مسائل کو فوری اور قلیل وقت میں حل کیا جائے گا۔
دونوں ممالک نے اس امر کو بھی تسلیم کیا کہ زراعت میں سائنسی بنیادوں پر تعاون ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) اور ایرانی تحقیقی اداروں کے درمیان اشتراک بڑھانے پر اتفاق ہوا، جو کہ فصلوں کی تحقیق، لائیو اسٹاک بریڈنگ، پانی کے انتظام اور کسانوں کی سہولت کے لیے جدت جیسے کلیدی شعبوں پر محیط ہوگا۔
وزیر نے زرعی تجارت میں سہولت کے لیے وسیع اقدامات پر بھی اتفاق کیا، جن میں کسٹمز کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنا، گوداموں اور کولڈ چین نظام کی فراہمی، اور سرحدی انفراسٹرکچر کی بہتری شامل ہے تاکہ خراب ہونے والی اجناس بروقت اور معیاری حالت میں منڈیوں تک پہنچ سکیں۔ دونوں ممالک نے آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) کی طرف پیش رفت پر بھی اتفاق کیا، جو زرعی تجارت کو طویل المدتی بنیادوں پر وسعت دینے کا ایک فریم ورک فراہم کرے گا۔
ان تاریخی فیصلوں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے زرعی تعاون پر ایک مشترکہ کمیٹی باضابطہ طور پر قائم کی گئی۔ یہ کمیٹی ہر چھ ماہ بعد اجلاس کرے گی تاکہ پیش رفت کا جائزہ لے، نئے مسائل کو حل کرے اور تعاون کی رفتار کو برقرار رکھے۔
اجلاس کے اختتام پر رانا تنویر حسین نے ایران کی حکومت کا تعمیری رویے اور پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کے اس وژن کو اجاگر کیا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان غذائی تحفظ اور زرعی ترقی میں ایک قابل اعتماد شراکت دار ثابت ہوگا۔ وزیر نے اس اجلاس کے نتائج کو دونوں ممالک کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جو کسانوں، تاجروں اور ایگرو بزنس کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے وزیر نوروزی کو باضابطہ طور پر پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ اس مثبت پیش رفت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے، جو آج کے فیصلوں کے نفاذ کے لیے عزم اور پاکستان-ایران زرعی و تجارتی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہے۔











