اسلام آباد، 6اگست(اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت بین الاقوامی ملٹی گروپ آف کمپنیز کے وفد کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ وفد کی قیادت چیئرمین امجد راشد نے کی۔ اجلاس میں پاکستان میں زرعی شعبے میں سرمایہ کاری اور فصلوں کی تنوع پذیری کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران متعدد قیمتی فصلوں پر بات ہوئی، تاہم کیسٹر کی کاشت کو خصوصی توجہ کا مرکز قرار دیا گیا کیونکہ یہ نہ صرف اقتصادی طور پر سودمند ہے بلکہ برآمدات کے لیے بھی بہت زیادہ امکانات رکھتی ہے۔
وفد نے پاکستان میں مختلف اعلیٰ منافع بخش فصلیں متعارف کروانے کی پیشکش کی، جن میں کیسٹر کو سب سے زیادہ موزوں اور منافع بخش قرار دیا گیا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیسٹر ایک کم لاگت والی اور زیادہ پیداوار دینے والی فصل ہے جو پاکستان کے غیر زرخیز اور نیم بنجر علاقوں کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فصل ان زمینوں میں بھی آسانی سے کاشت کی جا سکتی ہے جہاں دیگر روایتی فصلیں اگنا مشکل ہوتی ہیں، یوں یہ کسانوں کے لیے آمدنی کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت کیسٹر کی مقامی منڈی میں قیمت 7000 روپے فی چالیس کلو ہے، جو روایتی فصلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس منصوبے میں شامل ایک چینی غیر منافع بخش ادارہ ہائبرڈ کیسٹر بیج فراہم کرے گا، جس سے موجودہ پیداوار 50 من فی ایکڑ سے بڑھ کر 100 من فی ایکڑ تک ہو جائے گی۔ کمپنی نے کسانوں کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے تحت وہ مقررہ قیمت پر کسانوں کی تمام پیداوار خریدے گی، اس سے کسانوں کو مالی تحفظ بھی حاصل ہوگا۔
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اس منصوبے کی مکمل سرپرستی کرے گی اور صوبائی محکمہ جاتِ زراعت کے ساتھ مل کر آگاہی مہمات اور بیج کی فراہمی کے اقدامات کرے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی مارکیٹ میں کیسٹر آئل کی برآمدات کے میدان میں ایک مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ آئل دوا سازی، کاسمیٹکس، لبریکنٹس اور بائیو فیول سمیت کئی صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایسی غیر روایتی اور منافع بخش فصلوں کے فروغ کے لیے مکمل پالیسی سپورٹ فراہم کرے گی تاکہ زرعی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے، برآمدات میں اضافہ ہو اور کسان خوشحال ہوں۔
اجلاس کے اختتام پر یہ طے پایا کہ پائلٹ منصوبے شروع کیے جائیں گے، کسانوں سے معاہدے حتمی شکل دی جائے گی اور پاکستان میں کیسٹر کی ایک جامع، پائیدار اور برآمدی بنیادوں پر استوار ویلیو چین تشکیل دی جائے گی۔











