اسلام آباد، 7 اگست (اے پی پی ): وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت کی درخواست بذریعہ ڈاک بھیجی تھی، 5 کو احتجاج تھا 2 کو درخواست ڈی سی آفس پہنچی، ڈی سی اسلام آباد اور اس کے عملہ اس درخواست پر لکھے گئے نمبروں پہ لگاتار دو دن رابطہ کرتے رہے کسی نے انتظامیہ سے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست کو یوم استحصال کشمیر کا دن منایا جا رہا تھا جو یقیناً ایک اہم ایشو ہے اور اس دن دہشت گردی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے ڈی چوک پر ایک بڑی پریڈ بھی رکھی گئی تھی جس میں ہزاروں لوگوں نے شریک ہونا تھا، ڈپٹی وزیراعظم نے اس کی سربراہی کی
طلال چودھری نے ایوان کو آگاہ کیا کہ کوئی نیا اپریشن نہیں ہوگا، نہ ہی کسی کے خلاف ہو رہا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی پلان ہے لیکن کوئی کارروائی جو نیشنل ایکشن پلان کے مطابق ہو رہی ہے وہ ہوگی اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہوتا رہے گا، اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی پر تنقید کرتے ہوہے کہا کہ یہ خود بھی سپیکر رہیں اور جس طرح ہاؤس یہاں چلایا گیا ہے جو ریکارڈ قائم کیے گئے ہیں وہ سب ریکارڈ پر موجود ہے۔ ان کی سربراہی میں جس طرح تحریک عدم اعتماد کو اڑایا گیا اور اس کو غیر قانونی طور پہ رولنگ دی گئی اس کے بعد 53 بلز 10 منٹ میں پاس کرنے کا بھی ریکارڈ ان کا ہے ۔ اس کے بعد جتنے ہمارے لوگ گرفتار ہوتے تھے یہ اگلی سیٹوں پر موجود آج جتنے ممبران ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو گرفتار نہ ہو ان کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری نہیں کئے جاتے تھے۔











