افغانستان کی صورتحال پر سلامتی کونسل اجلاس:پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا بیان

43

اقوام متحدہ، 18 ستمبر(اے پی پی): پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اگرچہ خانہ جنگی ختم ہوئی ہے مگر افغانستان میں انسانی بحران، غربت، پابندیاں، منہدم شدہ بینکاری نظام، دہشت گردی اور انسانی حقوق کے مسائل اب بھی سنگین صورتِ حال پیش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ افغانستان کے عوام کے لیے امدادی خلا پُر کرے کیونکہ 2025 کے لیے انسانی ضروریات کے منصوبے کو صرف 27 فیصد فنڈنگ حاصل ہو سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان پر عائد پابندیوں کو سیاسی مفادات کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور سفری پابندیوں میں نرمی بامقصد روابط کے لیے ناگزیر ہے۔

سفیر نے افغانستان کی معیشت کی بحالی، بینکاری نظام کی بہتری اور مالی اثاثوں کے انجماد کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پوست کی کاشت کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کی زیر قیادت متبادل روزگار کے منصوبے شروع کرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے تعاون، تجارت، انسدادِ منشیات اور علاقائی رابطوں کے منصوبوں کے لیے اعلیٰ سطحی روابط قائم کیے ہیں اور حالیہ دنوں میں کابل، ازبکستان اور دوشنبے میں مختلف اجلاسوں اور مذاکرات میں شریک ہوا ہے۔