جہاد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، کسی فرد یا گروہ کو نہیں۔ حافظ طاہر محمود اشرفی

23

فیصل آباد، 10 ستمبر (اے پی پی):  پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کا حق ہے، کوئی فرد یا گروہ اپنے ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لیے دین کا استعمال نہیں کر سکتا۔ فیصل آباد میں رحمت للعالمین ﷺکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس دن پاکستان کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر حکم دیں گے پوری قوم لبیک کہے گی، لیکن اس وقت تک ہر شہری کو قانون کی پاسداری اور نظم و ضبط اختیار کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے جو غیر مسلموں کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون موجود ہے اور کوئی شخص قانون کو ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں رکھتا۔ انہوں نے مذہب کے نام پر تشدد پھیلانے والوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ جو لوگ مساجد میں خون بہاتے ہیں وہ مسلمان نہیں ہو سکتے بلکہ یہ خوارج اور بیرونی ایجنڈے پر چلنے والے عناصر ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ آفات اور سیلاب جیسی مشکلات میں ہمیشہ فوج سب سے آگے دکھائی دیتی ہے۔ ‘ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے فوجی اپنی جانیں داؤ پر لگا کر دوسروں کو بچاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے جسم کو پانی پر ڈال کر دوسروں کو سہارا دیتے ہیں اور جب شہادت کی خبر ان کے گھر والوں تک پہنچتی ہے تو وہ تعزیت نہیں بلکہ مبارکباد دینے کے لیے کہتے ہیں۔ انہوں نے شہداء اور ان کے لواحقین کے جذبے کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔بین الاقوامی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دو گھنٹے میں غزہ کو خالی کرا لے گا لیکن دو سال گزرنے کے باوجود فلسطینی عوام کا حوصلہ ٹوٹا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے 125 ممالک فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں لیکن امریکہ اس کے اقوام متحدہ میں داخلے کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہمارے وزیر اعظم اور محمد بن سلمان جیسے رہنما ایک ساتھ کھڑے ہوں گے تو فلسطین کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام اور حکومت ہمیشہ فلسطین کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جب قطر پر حملہ ہوا تو وزیر اعظم سمیت پوری قیادت نے قطر کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ جمعۃ المبارک کو پورے ملک میں خصوصی دعائیں اور اجتماعات ہوں گے جن میں فلسطین اور قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی منفی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے صرف یوٹیوبر تھے، اب تو یوٹیوبر مولوی بھی سامنے آ گئے ہیں جو عوام میں کنفیوژن پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کو ذمہ داری کے ساتھ قوم کی رہنمائی کرنی چاہیے نہ کہ ذاتی شہرت اور افراتفری کے لیے مذہب کا سہارا لینا چاہیے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایک دن ملک میں خلافتِ راشدہ کے اصولوں پر مبنی نظام ضرور قائم ہوگا لیکن اس وقت تک ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرے اور ملک کے اتحاد و استحکام میں اپنا کردار ادا کرے۔