حالیہ تباہ کن سیلاب نے لاکھوں افراد کو بے گھر اور بیماریوں کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے، قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی

19

اسلام آباد، 29 ستمبر ( اے پی پی(:قائم مقام صدرِ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی سے آج ایوانِ صدر میں ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی نمائندہ اور کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان، مس کوکو اُشی یاما نے ملاقات کی۔قائم مقام صدر نے کوکو اُشی یاما کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک وقت میں جب پاکستان شدید سیلابی تباہ کاریوں اور غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہے، ایک مخلص اور تجربہ کار انسانی خدمت کے رہنما کا پاکستان میں ہونا خوش آئند ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ محترمہ اُشی یاما کا وسیع تجربہ پاکستان کے عوام کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے پارلیمانی سفارتکاری کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مشترکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور قومی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے شراکت داری کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔

قائم مقام صدر نے واضح کیا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا شدید ترین شکار ہے اور حالیہ تباہ کن سیلاب نے لاکھوں افراد کو بے گھر، بھوکا اور بیماریوں کے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کی تباہی، مویشیوں کا نقصان اور بڑھتی غربت، خصوصاً جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں، فوری اور دیرپا بین الاقوامی امداد کے متقاضی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی امدادی اداروں سے  فوری امداد اور متاثرہ افراد کی طویل المدتی بحالی کے لیے تعاون کی اپیل کی۔سید یوسف رضا گیلانی نے ڈبلیو ایف پی اور پارلیمان کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ  ریلیف اور امدادی کاروائیوں  سب سے نچلی سطح پر محروم طبقات تک مدد پہنچ سکے۔ انہوں نے “نشوونما پروگرام” اور “اسکول غذائی پروگرام” جیسے ڈبلیو ایف پی منصوبوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں خاص طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وسعت دی جائے۔

مستقبل کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے قائم مقام صدر نے زور دیا کہ ڈبلیو ایف پی اور گرین کلائمٹ فنڈ کے اشتراک سے چلنے والے “انٹیگریٹڈ کلائمٹ رسک مینجمنٹ پروگرام” کو جنوبی پنجاب جیسے سیلابی علاقوں تک بڑھایا جائے تاکہ پیشگی وارننگ کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے اور مقامی آبادی کو مزید لچک اور تحفظ فراہم ہو۔

انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ڈبلیو ایف پی، حکومت پاکستان اور مقامی نمائندوں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے، بھوک میں کمی اور ماحولیاتی لچک میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ڈبلیو ایف پی اور پارلیمان کے درمیان براہِ راست رابطہ چینلز قائم کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ درست ضروریات کی نشاندہی ہو سکے اور امدادی اقدامات زیادہ ہدفی ثابت ہوں۔

قائم مقام صدر نے کہا کہ قدرتی آفات نے ملک میں غذائی عدم تحفظ اور بیماریوں کے بوجھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے ڈبلیو ایف پی کی پاکستان میں بھوک اور غذائی قلت کے خلاف جاری غیر متزلزل معاونت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ریلیف اور بحالی کی کوششوں میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر کوکو اُشی یاما نے قائم مقام صدر کو بتایا کہ ڈبلیو ایف پی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ مل کر بچوں میں نشوونما کی کمی اور غذائی قلت جیسے سنگین مسائل پر کام کرنے کے لیے پُرجوش ہے۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں، بالخصوص جنوبی پنجاب کی ابھرتی ہوئی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت اور برائے قومی غذائی تحفظ کے ساتھ قریبی اشتراک چاہتی ہیں تاکہ صحت اور غذائی سلامتی کے مسائل کو مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کے عوام کو مچھردانیاں، کمبل، لحاف اور دیگر روزمرہ ضروری اشیاء کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈبلیو ایف پی کی جانب سے جنوبی پنجاب سمیت ملک کے دیگر حصوں میں متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کی بھرپور کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔