حکومت نے ایک سال میں گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی  ریکارڈ  کمی کی، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی میڈیا سے گفتگو

13

اسلام آباد۔26ستمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ گردشی قرضہ پاکستان کے لیے وبال جان ہے، پی ٹی آئی دور حکومت میں گردشی قرضے میں ریکارڈ اضافہ ہوا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ایک سال میں گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی  ریکارڈ  کمی کی، 6 سالوں کے اندر گردشی قرض کا نام تک نہیں رہے گا، آئی پی پی کے معاہدوں پر نظرثانی کر کے اربوں روپے کی بچت کی، 1225 روپے کے  گردشی قرضوں کا بینکوں کے ذریعے حل نکالا ہے، توانائی کے شعبے میں اصطلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔ جمعرات کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار اویس خان لغاری نے کہا  کہ گردشی قرضہ پاکستان کے لیے ایک وبال جان ہے،   2018ء میں جب  پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہوئی تو گردشی قرضہ تقریبا ً1100 ارب روپے تھا،  جب نئے پاکستان کی حکومت کا دور تھا تو 2022ء میں گردشی قرض کا حجم  1100 ارب روپے سے بڑھ کر  2250 ارب روپے تک پہنچ  چکا تھا۔ جب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دوبارہ حکومت سنبھالی تو یہ تقریبا ً2400 ارب روپے کے ارد گرد  منڈلا رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک سال کے اندر ہم نے 780 ارب کی بغیر کسی دو نمبری کے کمی کی، چوری اور نقصانات کنٹرول کر کے گردشی قرضوں میں کمی کی گئی، معیشت سنبھلنے اور شرح سود میں کمی سے 175 ارب کی بچت ہوئی، گردشی قرض میں 363 ارب کی کمی ہوئی،  آئی پی پیز سے مذاکرات اور مجموعی طور پر ایک سال میں نقصانات کی مد میں 242 ارب روپے کی بچت کی۔  انہوں نے کہا کہ بینکوں کے ساتھ قرض کو ختم کرنے کیلئے معاہدہ کیا گیا ہے،18 بینکوں کے ساتھ معاہدہ کیا کسی بینک کو کوئی ممانعت نہیں تھی، ٹاسک فورس کو اس معاہدے کا کریڈٹ جاتا ہے، 6 سالوں کے اندر گردشی قرض کا نام تک نہیں رہے گا۔  سرچارج 3 روپے 23 پیسے جو صارفین وصول کیا جا رہا ہے اب یہ  سرچارج بھی 5 سے 6 سال میں ختم ہو جائے گا۔ گردشی قرض کا بہتر شرح سود ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا جائے گا،پاکستان کی معیشت انرجی سیکٹر پر منحصر ہے، ایسے بڑے قدم سے اب معیشت میں مزید بہتری آئےگی۔  اویس لغاری نے کہا کہ تقریباً 8 سو ارب کا گردشی قرض بغیر کسی قرض کے ختم کیا گیا،گردشی قرض کیلئے ساڑھے تین سے ساڑھے پانچ فیصد سود کی بچت کی۔  انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی اور معیشت نہیں جس میں گردشی قرض کا بوجھ ہو، ڈسکوز کے بورڈز کی کارکردگی میں نقصانات میں کمی کے نتائج آ رہے ہیں،انڈسٹری کو 38 فیصد  جبکہ ایک کروڑ 80 لاکھ صارفین کو 50 فیصد کم بوجھ پر بجلی مل رہی ہے،  سولر نیٹ میٹرنگ کے ریٹس کی اس وقت خوفناک صورتحال ہے،سوا تین کروڑ لوگوں کے  ریٹس کم ہونگے اگر سولر میٹرنگ کے ریٹس پر نظر ثانی ہو، گردشی قرض کیلئے کائبور ریٹس مائنس 0.9 فیصد پر طے پایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر کا ڈالر ڈیٹ بہت کم ہوا ہے،گردشی قرض کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ پوری ڈسکشنز ہوئی ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ ملکر گردشی قرض کے حوالے سے معاہدے ہوئے، آئی ایم ایف مشن اقتصادی جائزہ کیلئے پاکستان موجود ہے۔جس کے ساتھ آج بھی گردشی قرض اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔ اویس لغاری نے  کہا کہ حکومت نے ایسی  حدود طے کر لی ہیں جس سے آئندہ پاور سیکٹر کے اندر نہ صرف انویسٹرز  بلکہ کنزیومرز اور بینکس کے ساتھ  بھی زیادہ اعتماد کا ماحول پیدا ہوگا۔  گردشی قرضے کی یہ سکیم پاکستان کی تاریخ میں ایسی سکیم ہے جو باقاعدہ پلاننگ کے ذریعے لائی گئی ہے جس کا باقاعدہ افتتاح اور اعلان چند دن پہلے وزیراعظم شہباز شریف  نے کیا۔