اسلام آباد، 11 ستمبر (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر انوشہ رحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں تجارتی سہولت کاری، ریگولیٹری فریم ورک اور پاکستان کی تجارتی ترقی کے لیے ادارہ جاتی میکانزم پر تفصیلی غور کیا گیا۔
کمیٹی نے بادینی بارڈر کھولنے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت تجارت، وزارت داخلہ اور حکومت بلوچستان کے درمیان قریبی کوآرڈینیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ پیش رفت کی نگرانی کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا جائے اور افغان سائیڈ پر بھی متوازی کوششیں کی جائیں۔
ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے حوالے سے کمیٹی نے SRO 642(1)/2023 پر عملدرآمد میں بیوروکریٹک تاخیر پر تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ بارٹر فریم ورک کو آسان اور شفاف بنایا جائے تاکہ تاجروں کو سہولت ملے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری بھی یقینی ہو۔
بیرون ممالک میں پاکستانی چیمبرز آف کامرس کے قیام اور فعالیت میں درپیش مسائل پر بھی کمیٹی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے طریقہ کار کو ہموار کرنے، فوکل پرسنز مقرر کرنے اور کامیاب بین الاقوامی ماڈلز سے استفادہ کرنے کی سفارش کی۔ کمیٹی نے زور دیا کہ چیمبرز کی تصدیق این او سی کے بجائے سفارتخانوں کے ذریعے کی جائے اور تجارتی افسران کو فعال کردار دیا جائے۔
اجلاس میں وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق تجارتی معاہدوں اور مفاہمت ناموں پر عملدرآمد پر زور دیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 148 کمپنیوں کی فہرست بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتھ شیئر کی گئی ہے تاکہ انہیں براہ راست منسلک کیا جا سکے۔ کمیٹی نے وزارت تجارت، BOI اور TDAP کے درمیان مربوط کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
کمیٹی کو ایکسپورٹ کونسلز کے قیام پر بھی بریفنگ دی گئی جو اب 20 کی تعداد میں ہیں اور مختلف سیکٹرز کی برآمدات میں اضافہ کرنے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ بلوچستان سے چاول، آلو، کینو، بیج اور آم کی برآمدات کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی گئی، تاہم کمزور انفراسٹرکچر، مہارت کی کمی، زیادہ توانائی اخراجات اور کولڈ چین کی عدم دستیابی کو بڑی رکاوٹیں قرار دیا گیا۔
کمیٹی نے زور دیا کہ برآمدی روڈ میپ جامع ہونا چاہیے جو نہ صرف سیکٹر کی سطح پر بلکہ سپلائی چین کے درمیانی مسائل کو بھی حل کرے، جبکہ غیر محصولاتی رکاوٹوں سے مقامی پیداوار کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں سابقہ تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق معاملے پر بھی مختصراً تبادلہ خیال کیا گیا، جسے متعلقہ بورڈز کے دائرہ اختیار میں قرار دیا گیا۔











