مظفر آباد۔ 25ستمبر(اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران امیر مقام نے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ہمراہ مظفر آباد میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیے۔وفاقی وزیر امیر مقام اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر مذاکرات کیے۔وفاقی وزراء نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی 29 ستمبر کی ہڑتال پر مذاکرات کیے، 14 گھنٹے طویل اجلاس منعقد کیے ،آئینی دائرے میں تمام مطالبات مان لیے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ کشمیر میں بجلی 3 روپے فی یونٹ اور آٹا بھی کم قیمت پر فراہم کیا جا رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ سال کشمیر کیلئے 23 ارب روپے کی خصوصی سبسڈی دی،کشمیر کے ترقیاتی فنڈ میں بھی 100 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا غیر آئینی مطالبہ کیا، مہاجرین کی نشستیں ختم کرنا مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے بے وفائی ہوگی،کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ آئینی اور قانونی معاملہ ہے، آپ عوام کا مینڈیٹ لے کر الیکشن جیتیں اور اسمبلی میں آئیں، پھر ترامیم کرائیں، اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ کشمیر کاز پر پاکستان کا مؤقف واضح ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وفاقی اور آزاد کشمیر حکومت ہر جائز اور آئینی حدود میں مطالبات ماننے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔











