ایم ڈی کیٹ امتحانات کے لیے یکساں نصاب اور محفوظ سوالنامہ بینک تیار، پی ایم ڈی سی نے تاریخی قدم اٹھایا، مصطفیٰ کمال

10

اسلام آباد، 22 اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایم ڈی کیٹ امتحانات کے لیے ایک بڑا اصلاحاتی اقدام اٹھاتے ہوئے پورے پاکستان کے لیے یکساں نصاب اور محفوظ سوالنامہ بینک تیار کیا ہے اوراس فیصلے سے سالہا سال سے جاری ’’آؤٹ آف سلیبس‘‘ اور ’’پیپر لیک‘‘ جیسے مسائل کا مستقل حل نکل آیا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ماضی میں ہر صوبے کا میڈیکل نصاب مختلف ہونے کے باعث ایم ڈی کیٹ کے امتحانات میں تنازعات اور سوالات اٹھتے رہے، تاہم پہلی بار پی ایم ڈی سی نے تمام صوبوں کی اعلیٰ جامعات کے وائس چانسلرز سے مشاورت کے بعد ایک مشترکہ نصاب تشکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی بنیاد پر چھ ہزار سوالات پر مشتمل سوال بینک تیار کیا گیا ہے جس سے تین تین مختلف پیپرز صوبوں کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ طریقہ کار اس لیے اپنایا گیا ہے کہ اگر کسی ایک صوبے میں کسی پیپر کے لیک ہونے کا خدشہ ہو تو پورا ملک متاثر نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ایم ڈی سی کا کام سلیبس مرتب کرنا اور پیپر تیار کرنا تھا جب کہ امتحان کا انعقاد، مراکز کا انتخاب اور نگرانی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک بھر سے ایک لاکھ چالیس ہزار دو سو نوّے طلبہ نے ایم ڈی کیٹ کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے جبکہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں نشستوں کی تعداد بائیس ہزار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحان 26 اکتوبر کو ملک کے 32 سینٹرز اور ایک غیر ملکی مرکز ریاض میں منعقد ہوگا، جہاں 190 طلبہ امتحان دیں گے۔