اسلام آباد،22 اکتوبر(اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے آواز ٹو پروگرام کے ابتدائی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سماجی شمولیت اور ادارہ جاتی کارکردگی کے احتساب کو قومی ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمولیت اور شفافیت پائیدار حکمرانی کی بنیاد ہیں اور پاکستان کی ترقی میں ہر شہری اور ہر کمیونٹی کا کردار ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت عوام کی آواز کو پالیسی سازی کے عمل میں مرکزی حیثیت دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آواز پروگرام نے کمزور طبقات، خواتین، نوجوانوں اور معذور افراد کی نمائندگی کو مؤثر بنایا ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ “اُڑان پاکستان” کا فائیو ایز فریم ورک ایک جامع اصلاحاتی روڈ میپ ہے جس کا مقصد موجودہ چیلنجز کو نئے مواقع میں بدل کر ملک کو مضبوط اور مستحکم معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ، ڈیجیٹل پاکستان، گرین انرجی، ماحولیات اور سماجی برابری اُڑان کے بنیادی ستون ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو قومی اصلاحاتی عمل کا مرکزی حصہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں 42 شہروں کے 131 کیمپسز میں ینگ پیس اینڈ ڈویلپمنٹ کور کے یونٹس قائم کیے گئے ہیں تاکہ نوجوان فیلوز، اسکالرز اور انٹرنز کو عملی تربیت دے کر قومی ترقی میں شامل کیا جا سکے۔
وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ بااختیار نوجوان انٹرنشپ پروگرام کے تحت 60 ہزار سے زائد ادائیگی شدہ انٹرن شپس فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے 10 ہزار خصوصی انٹرن شپس مختص کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ینگ ڈیولپمنٹ فیلو پروگرام نوجوان پالیسی ماہرین کی نئی نسل تیار کر رہا ہے جبکہ چیمپئنز آف ریفارمز نیٹ ورک قومی پالیسی سازی میں پیشہ ورانہ مشاورت فراہم کر رہا ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے مزید کہا کہ وزارت منصوبہ بندی سی ایس ایس کے امتحانات میں اردو کو اختیاری زبان کے طور پر متعارف کرانے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آواز II کے ماڈلز کو حکومتی نظام میں ضم کر کے پائیدار بنایا جائے گا تاکہ عوامی شمولیت اور سماجی انصاف کے اصولوں کو ادارہ جاتی سطح پر فروغ دیا جا سکے۔











