اسلام آباد،31 اکتوبر(اے پی پی): وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے معروف جیمز ایکسپورٹر بّارنیبی پلورائٹ نے جمعہ کو یہاں ملاقات کی، جس میں ملک میں جیمز کے شعبے کی ترقی اور نئی قومی پالیسی کی تیاری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کے قیمتی پتھروں کی صنعت میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے جسے مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے بہتر انداز میں منظم کیا جا سکتا ہے۔
ہارون اختر خان نے اسلام آباد میں بّارنیبی کی فیکٹری کا دورہ بھی کیا، جہاں انہیں ڈائمنڈز کی صفائی، تراش خراش، گریڈنگ اور پیکنگ کے مراحل سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ معاونِ خصوصی نے فیکٹری کے کام کے طریقہ کار اور وہاں موجود ماہرین کی مہارت کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے صنعتی یونٹس پاکستان میں جیمز انڈسٹری کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر نیشنل جیمز پالیسی پر کام جاری ہے، جس کا مقصد اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی کے تحت جیمز ایکسپورٹرز اور مینوفیکچررز کو انڈسٹری کا درجہ دیا جائے گا تاکہ وہ بہتر سہولیات سے مستفید ہو سکیں اور عالمی منڈی میں مؤثر انداز میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ جیمز کا شعبہ طویل عرصے سے غیر دستاویزی رہا ہے جس کی وجہ سے تقریباً دو ارب ڈالر کی معیشت غیر رسمی چینلز کے ذریعے گردش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی کے نفاذ کے بعد یہ شعبہ باضابطہ طور پر معیشت کا حصہ بن جائے گا، جس سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ حکومتی آمدن میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کی تیاری کے عمل میں بین الاقوامی معیار اور بہترین ماڈلز کو مدنظر رکھا جا رہا ہے، اور توقع ہے کہ یہ پالیسی آئندہ ایک ماہ کے اندر مکمل کر لی جائے گی۔
ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ پاکستان قیمتی اور نایاب پتھروں کے وسیع ذخائر کا حامل ملک ہے، جن کی کوالٹی دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی نیشنل جیمز پالیسی کے نفاذ سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک کو اربوں ڈالرز کے معاشی فوائد بھی حاصل ہوں گے، جس سے مقامی صنعت اور کاریگروں کو روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔











