ٹیکس، توانائی کی قیمتوں اور بین الصوبائی تجارت میں اصلاحات کے مثبت نتائج ظاہر ہو رہے ہیں، خرم شہزاد

17

کراچی،29اکتوبر (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہاہے کہ ٹیکس، توانائی کی قیمتوں اور بین الصوبائی تجارت میں اصلاحات کے مثبت نتائج اب ظاہر ہو رہے ہیں، انٹرنیٹ کی رسائی 60 فیصد سے بڑھا کر 80 فیصدتک بڑھائی جائے گی جس سے   جامع ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد فراہم ہوگی، نجی شعبہ ڈیجیٹل معیشت کو اپنانے اور برآمدی ترقی کے فروغ میں فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کوکراچی میں   منعقدہ پانچویں پاکستان فیوچر آف ریٹیل بزنس سمٹ اینڈ ایکسپو کا افتتاح کرتے ہوئے کہی، اس سال کی تقریب کا موضوع ”تبدیل ہوتے ہوئے دور میں ریٹیل: پاکستان کی تجارت میں مضبوطی کی تعمیر” تھا۔ افتتاحی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے خرم شہزاد نے حکومت کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے کو اجاگر کیا جس کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، ڈیجیٹل شمولیت کو فروغ دینا اور کیش لیس معیشت کی جانب منتقلی کو تیز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیاں شفاف، دستاویزی اور ترقی پر مبنی معیشت کے قیام کے لیے بنائی گئی ہیں جو کاروباری اعتماد، صنعتی بحالی اور طویل المدتی سرمایہ کاری کو فروغ دے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صارف پر مبنی معیشت کو رکاوٹ کے بجائے توسیع کے موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نوجوان اور خرچ کرنے کے رجحان والی آبادی کے ساتھ، پاکستان پروڈیوسرز اور ریٹیلرز کے لیے ترقی اور جدت کا بے پناہ موقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے افراط زر کو اوسطاً 5 فیصد تک کم کیا ہے جو گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے، یہ پیش رفت وزیراعظم کے اس عزم کی عکاس ہے جس کے تحت کاروباری لاگت میں کمی، سستی توانائی کی فراہمی اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا گیا ہے،ٹیکس، توانائی کی قیمتوں اور بین الصوبائی تجارت میں اصلاحات کے مثبت نتائج اب ظاہر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی براہ راست نگرانی اور وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی قیادت میں کیش لیس پاکستان انیشیٹو ملک کو ایک ڈیجیٹل اور دستاویزی معیشت کی طرف گامزن کر رہا ہے جو معیشت میں خاطر خواہ قدر اور کارکردگی میں بہتری لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب بھی بڑی تعداد میں لین دین نقدی کی صورت میں ہوتے ہیں اور غیر دستاویزی معیشت کا حجم مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 40 فیصد کے برابر ہے جو مالی نقصانات اور کارکردگی میں کمی کا باعث بنتا ہے، اگر نقد لین دین کا معمولی حصہ بھی ڈیجیٹل کیا جائے تو ملک سالانہ تقریباً 164 ارب روپے بچا سکتا ہے جبکہ غیر دستاویزی معیشت میں 25 فیصد کمی سے ایک کھرب روپے سے زائد کے اضافی وسائل حاصل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی کیش لیس منتقلی تین بنیادی ستونوں تبدیلی، شمولیت اور اختیار پرمشتمل ہے، وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر سرکاری نقد لین دین کو ڈیجیٹل چینلز میں منتقل کرنا، تمام شہریوں بالخصوص خواتین اور غیر بینک شدہ طبقات کو مالی خدمات تک رسائی دینا اور کاروباروں، سرکاری اداروں اور صارفین کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال کو فروغ دینا اس کے بنیادی مقاصدمیں شامل ہیں، یہ ستون شفافیت، احتساب اور مالیاتی نظام پر اعتماد کے فروغ کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ خرم شہزاد نے بتایا کہ اس اقدام کے اہداف میں جون 2026ء تک ماہانہ فعال را ست کیو آر مرچنٹس کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ تک کرنا، سالانہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کو 7.5 ارب سے 15 ارب تک دوگنا کرنا اور دسمبر 2026ء تک حکومت کی تمام ادائیگیاں (حکومت سے عوام اور عوام سے حکومت تک) مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ کی رسائی 60 فیصد سے بڑھا کر 80 فیصد تک لے جائی جائے گی جو ایک جامع ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد فراہم کرے گی، حکومت نے اس سلسلے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بی آئی ایس پی کی مستحق خواتین کے لیے ایک کروڑ بینک اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں، نادرا دفاتر اور اسلام آباد کے ریٹیل مراکز میں راست کیو آر ادائیگیاں شروع کی جا چکی ہیں اور گیس و بجلی کے تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ صارفین کے بلوں پر راست انٹیگریشن مکمل ہو چکا ہے۔ مزید یہ کہ راست پیمنٹس پاکستان کے نام سے ایک الگ ادارہ قائم کیا گیا ہے جبکہ انٹرنیٹ انفراسٹرکچر پر رائٹ آف وے چارجز ختم کر دیئے گئے ہیں تاکہ لاگت میں کمی اور کنیکٹیویٹی میں اضافہ کیا جا سکے۔ یہ اقدامات پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر فعال، شفاف اور جامع معیشت میں تبدیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے ٹیکس پالیسی سازی کو ٹیکس وصولی کے عمل سے الگ کر دیا ہے تاکہ ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔ اب فنانس ڈویژن پالیسی ڈیزائن اور فریم ورک کی تشکیل کا ذمہ دار ہے جبکہ ایف بی آر نفاذ اور وصولی کا کام انجام دے رہا ہے۔ خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت کا نقطہ نظر میکرو اکنامک نظم و ضبط اور تکنیکی جدت کا امتزاج ہے جو ایک مضبوط اور مستقبل بر معیشت تشکیل دے رہا ہے۔ انہوں نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل معیشت کو اپنانے اور برآمدی ترقی کے فروغ میں فعال کردار ادا کرے، کیونکہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے عوامی و نجی اشتراک نہایت اہم ہے۔ اجلاس کی نظامت چیر سٹور ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین   رانا طارق محبوب نے کی۔