اسلام آباد، 23 اکتوبر(اے پی پی ): پاکستان اور قطر کی حکومتوں کے درمیان اقتصادی اور تکنیکی تعاون کے معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کا چھٹا اجلاس 22 اور 23 اکتوبر 2025 کو اسلام آباد میں کامیابی سے منعقد ہوا۔ پہلے دن 22 اکتوبر کو تکنیکی سیشن ہوا جس میں دونوں ممالک کے وفود نے مختلف شعبوں میں تعاون کے تکنیکی پہلوؤں پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا۔ دوسرے دن 23 اکتوبر کو وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور قطر کے وزیر تجارت و صنعت شیخ فیصل بن ثانی بن فیصل آل ثانی نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے متعدد پروٹوکولز پر دستخط کیے۔
اختتامی سیشن میں دونوں وزراء نے اپنی تقاریر میں دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
وزارت اقتصادی امور کے سیکریٹری محمد حمیر کریم نے پرامید انداز میں کہا کہ چھٹا جے ایم سی پاک-قطر کے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے تعاون کو فروغ دینے میں کمیشن کے کردار اور قطری سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا۔
تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں طے پانے والے پروٹوکولز کے تحت دونوں ممالک نے امیرِ قطر کے اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی(کیو آئی اے) یا دیگر سرمایہ کاری ذرائع کے ذریعے پاکستان میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پروٹوکولز میں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹمز جیسے ریل، بسیں اور میٹرو میں تعاون بڑھانے اور سبز ٹیکنالوجیز جیسے برقی گاڑیوں، خودکار گاڑیوں اور ہائیڈروجن ایندھن کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان نے کھاریاں-راولپنڈی موٹروے اور کراچی-حیدرآباد موٹروے جیسے سڑک کے منصوبوں میں قطری سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے، جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یا براہ راست فنانسنگ کے ذریعے ممکن ہیں۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون بھی اجلاس کا مرکزی موضوع رہا اور باقاعدہ پروٹوکولز میں اس کا ذکر موجود ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلیم سے متعلق ایگزیکٹو پروگرام کے مجوزہ مسودے پر بھی بات چیت کی گئی، جس کے تحت تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق میں تعاون کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ قطر کی وزارت تعلیم اور پاکستان کی نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے درمیان ایک مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر بھی غور کیا گیا۔
ثقافت اور میڈیا کے شعبے میں پروٹوکولز کے تحت پیشگی تصدیق شدہ اداروں اور ثقافتی اداروں کے لیے فاسٹ ٹریک سسٹم قائم کیا گیا، جس میں کثیر الدخول ویزوں اور قلیل مدتی ثقافتی و تعلیمی تبادلوں کے لیے آسان عمل شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے فلم، عجائب گھروں اور ثقافتی ورثے میں تعاون کے لیے ایک رولنگ ’’ایئر آف کلچر‘‘ پروگرام شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پروٹوکولز میں ای-گورنمنٹ، سمارٹ سٹیز، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل تبدیلی میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ قطر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک اور پاکستان کی اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے درمیان تعاون کو ترجیح دی گئی، اور پاکستانی سٹارٹ اپس کو قطر کے ٹیک ریگولیٹری ماحول اور مراعات سے آگاہ کرنے کے لیے ورکشاپس کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔











