کراچی،12نومبر (اے پی پی):آئی بی اے یونیورسٹی کراچی میں’’ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی سماجی تقسیم اور اس کا پُرتشدد انتہاپسندی سے تعلق‘‘کے عنوان پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے میڈیا سیل برائے انسدادِ پرتشدد انتہاپسندی (CVE) کے زیرِ اہتمام اقراء یونیورسٹی کراچی میں ایک سیمینار بعنوان ’’ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی سماجی تقسیم اور اس کا انتہاپسندی سے تعلق‘‘منعقد ہوا۔ یہ سیمینار ’’غلط معلومات اور ان کے ڈیجیٹل پھیلاؤ کو سمجھنا‘‘کے سلسلے کا حصہ تھا، جس میں ماحولیاتی تبدیلی، سماجی عدمِ مساوات اور پُرتشدد انتہاپسندی کے باہمی تعلق پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔تقریب میں ماحولیاتی تبدیلی، سماجی کمزوری اور انتہاپسندی کے باہمی تعلق پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پینل میں آئی بی اے کی فیکلٹی ممبر اور سینئر ماحولیاتی صحافی زوفین ابراہیم اور جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عامر عالمگیر شامل تھے جنہوں نے تحقیق پر مبنی نکات پیش کیے۔ڈاکٹر عامر عالمگیر نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں کراچی میں ماحولیاتی اثرات سے پیدا ہونے والی کمزوریوں اور ان کے تنازعات سے تعلق پر تحقیق کی۔ حالیہ سیلابوں نے شدید ذہنی دباؤ پیدا کیا، جب شہری گھروں کو لوٹتے ہیں تو وہاں پانی، بجلی یا گیس دستیاب نہیں ہوتی، اس سے مایوسی اور ذہنی دباؤ بڑھتا ہے جو بعض اوقات خودکشی یا پرتشدد رجحانات میں بدل جاتا ہے۔ڈاکٹر عامر نے تجویز دی کہ حکومت کو ماحولیاتی بحالی اور سماجی بحالی پروگراموں کو مربوط کرنا چاہیے تاکہ ذہنی اور سماجی دباؤ کم کیا جا سکے جو انتہاپسندی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ زوفین ابراہیم نے کہا کہ مسئلے کی جڑ حکومت کی جانب سے تاخیر سے ردعمل ہے، جنوبی پنجاب اور مغربی بلوچستان جیسے علاقوں میں مذہبی و سیاسی گروہ فوری امداد فراہم کرتے ہیں جبکہ حکومتی ریلیف میں تاخیر ہوتی ہے، یہی گروہ مقامی سطح پر عوام کا اعتماد حاصل کر لیتے ہیں کیونکہ ان کی کمیونیکیشن نیچے سے اوپر کی سمت میں ہوتی ہے۔انہوں نے حکومتی ریلیف اور ابلاغی نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا تاکہ غلط معلومات کا سدِباب ہو اور عوامی اعتماد بحال ہو۔ڈی جی پی آئی ڈی کراچی ارم تنویر نے سیمینار کے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی اور انتہاپسندی کو الگ الگ مسائل کے طور پر دیکھا جاتا ہے جبکہ زمینی سطح پر انتہا پسند گروہ منظم ہیں، ضروری ہے کہ حکومت میں موسمیاتی اور داخلہ امور کی وزارتوں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا جائے تاکہ مربوط پالیسی اپنائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انفرادی شعور، ماحولیاتی موافقت اور شمولیت کو فروغ دینا ہی پائیدار معاشرتی استحکام کی کنجی ہے۔











