ایس ایم ایز کلسٹر راولپنڈی کی ایس اے پی ایم ہارون اختر خان سے ملاقات ، وزیراعظم شہباز شریف کے چھوٹے کاروباروں کی مضبوطی کے وژن کا اعادہ

8

اسلام آباد، 14 نومبر (اے پی پی ): وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے آج راولپنڈی کے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز  کلسٹر سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران فارما ایس ایم ایز نے اپنے مسائل اور عملی رکاوٹوں سے معاونِ خصوصی کو آگاہ کیا،ہارون اختر خان نے انہیں یقین دلایا کہ حکومت وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق ان کے مسائل کے حل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم کی ترجیح ہے کہ ایس ایم ایز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جائے، معیشت میں ان کے کردار کو مزید مضبوط کیا جائے، اور روزگار و برآمدات میں ان کے حصے کو بڑھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کا کردار قابلِ تعریف ہے۔ حکومت اصلاحات اور معاونتی پالیسیوں کے ذریعے انہیں مزید بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

معاونِ خصوصی نے بتایا کہ حکومت فارما ایس ایم ایز کے لیے فارما پارکس کی فراہمی کی پالیسی تشکیل دے رہی ہے۔ فارما پارک کا ایک ماڈل تیار کیا جا رہا ہے جو جلد وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بینکاری شعبے کے ساتھ مل کر ایس ایم ایز کی کریڈٹ تک رسائی بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے، جبکہ برآمدی شعبے میں حصہ لینے والی ایس ایم ایز کو ایکسپورٹ فنانسنگ فراہم کی جائے گی تاکہ وہ عالمی منڈیوں میں مؤثر طریقے سے مقابلہ کر سکیں۔

ہارون اختر خان نے پاکستانی ایس ایم ایز کے معیار اور عالمی تقاضوں کے مطابق معیار بندی کے لیے حکومتی عزم کو دہرایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمرشل اتاشیوں اور سفارتکاروں کو ایس ایم ایز کی سہولت کاری اور نئی برآمدی مواقع کی نشاندہی کے لیے مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

معاونِ خصوصی نے وزیراعظم کے اس وژن کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان میں ویکسین کی مقامی پیداوار کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل ویکسین پالیسی کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ان کے مطابق، مقامی ویکسین مینوفیکچرنگ سے ملک کی صحت کے تحفظ کو مضبوطی ملے گی اور ایس ایم ایز کا فروغ بھی یقینی ہوگا۔

ملاقات میں راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عثمان شوکت، سمیڈا کی ایکٹنگ سی ای او نادیہ جے، سیٹھ اور وزارتِ صنعت و پیداوار کے نمائندے شریک ہوئے۔