سفیر عثمان جدون کا انسانی سمگلنگ کو عالمی سطح پر  مرکزی چیلنج قرار دیتے ہوئے اسکے خاتمے پر زور

15

اقوامِ متحدہ، 25 نومبر ( اے پی پی): پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں نائب مستقل مندوب ، سفیر عثمان جدون نے جنرل اسمبلی کے انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقوامِ متحدہ کے عالمی لائحہ عمل کے جائزے سے متعلق اجلاس سے خطاب میں انسانی اسمگلنگ کی بنیادی وجوہات، بالخصوص معاشی عدم مساوات، باقاعدہ ہجرت کے محدود قانونی راستے، اور تنازعات کے حل و روک تھام  کو عالمی سطح پر ایک جامع اور مربوط ردِعمل کے لیے مرکزی چیلنج قرار دیتے ہوئے ان کے حل پر زور دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سخت ویزا پالیسیوں اور بارڈر کنٹرول کے سخت اقدامات سے موجودہ مسائل میں اضافہ ہوگا اور لوگ انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں زیادہ آسانی سے شکار بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلی سے جنم لینے والی آفات اور معاشی عدم مساوات نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا اس مکروہ جرم کا شکار ہونا اس چیلنج کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان افراد کی نقل و حرکت کے سلسلے میں ایک ’مُلکِ مبدأ‘’مُلکِ گزرگاہ اور ’مُلکِ منزل تینوں کی حیثیت رکھتا ہے۔سفیر جدون نے بتایا کہ پاکستان انسانی اسمگلنگ کے خلاف مربوط ردِعمل کو یقینی بنانے کے لیے اندرونی اقدامات مضبوط کرنے اور بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی دو جہتی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسانی اسمگلنگ اور تارکینِ وطن کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے ’’سمگلنگ آف مائیگرنٹس (2026–2031) کے خلاف قومی لائحہ عمل‘‘ نافذ کیا گیا ہے، جبکہ انسانی اسمگلنگپر ایک علیحدہ قومی لائحہ عمل بھی جلد متعارف کرایا جائے گا۔

 انہوں نے بتایا کہ تمام امیگریشن چیک پوسٹس پر انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم  نصب کیا جا چکا ہے تاکہ اسمگلروں کے خلاف موثر کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔