اسلام آباد،17نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نےکہا ہےکہ مستقبل کی نسلوں کیلئےبہتر معیار زندگی، آبادی میں تیزی سے اضافے کو کنٹرول کرنے سے ہی ممکن ہے ، ماحولیاتی تحفظ کیلئے آبادی میں اعتدال ناگزیر ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو مقامی ہوٹل میں ‘‘ڈسٹرکٹ ولنرایبلٹی انڈکس’’ کے عنوان سے پاپولیشن کونسل کی رپورٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آبادی پر کنٹرول سے ہی خوشخالی کے راستے کھل سکتے ہیں ، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بھی بنتی ہے ، انہوں نے کہاکہ ترقی کی رفتار بڑھانے کیلئے آبادی میں تیزی سے اضافے پر کنٹرول ناگزیر ہے، مسلسل ترقی کیلئے آبادی کی موثر منیجمٹ لازم ہے ۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ مستحکم معیشت کیلئے آبادی کی ذمہ دارانہ منصوبہ بندی کلیدی اہمیت رکھتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ بچوں کی پیدائش زچہ و بچہ دونوں کیلئے صحت کے مسائل کا باعث بھی بنتی ہے ، زیادہ آبادی ملکی وسائل پر شدید دباؤکا باعث بنتی ہے ، روز گار کے مواقع بڑھانے کیلئے آبادی میں اضافے میں توازن ضروری ہے۔ شہری سہولیات بہتر بنانے کیلئے آبادی میں تیزی سے اضافے کا دباؤ کم کرنا ضروری ہے ۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ محفوظ پانی تک رسائی اتنی مشکل کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی، بنیادی انصاف اور حقوق کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے بعض اضلاع میں آبادی میں اضافے کی صورتحال کو تشویش ناک قراردیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے شدید متاثرہ اضلاع بلوچستان اور سابق فاٹا میں ایک کروڑ افراد رہائش پذیر ہیں ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق متاثرہ اضلاع میں 20 لاکھ سےزیادہ کم سن بچے تعلیم کےحوالے سے غیر یقینی مستقبل سے دوچار ہیں جبکہ 65 فیصد آبادی عارضی اور کچے گھروں میں زندگی گزارنے پر مجبورہے ،وفاقی وزیر نے کہاکہ صاف پانی، تعلیم اور محفوظ رہائش سہولیات نہیں، بنیادی حقوق ہیں۔











