اسلام آباد،19نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے معاشرے میں تحمل اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نبی کریمﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے لیے بہت بڑا سرمایہ حیات ہے،برداشت اور رواداری قیام پاکستان کی بنیاد ہے،تحریک آزادی میں اقلیتوں سمیت زندگی کے ہر طبقے کے لوگ شامل تھے،اللہ تعالیٰ پاکستان کو ایک ایسا عظیم ملک بنائے جس میں تمام مکاتب فکر اور تمام مذاہب کے پیروکار امن اور چین کی زندگی بسر کریں۔
ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں برداشت کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ برداشت اور رواداری کے حوالے سے تقریب کا انعقاد خوش آئند ہے،برداشت اور رواداری قیام پاکستان کی بنیاد ہے، قائد اعظم کی عظیم قیادت میں لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں سے پاکستان معرض وجود میں آیا، تحریک آزادی میں عوام ،وکلاء ،ڈاکٹرز،انجینئرز،علماء اور اقلیتوں سمیت زندگی کے ہر طبقے کے لو گ شامل تھے،قیام پاکستان سے تین دن پہلے 11 اگست کو قائد اعظم کی تقریر میں وہ فلسفہ بیان کر دیا گیا کہ ہم ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں بردباری، تحمل اور برداشت کو فروغ حاصل ہو گا،تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق عبادت کی مکمل آزادی ہوگی اورہم آپس میں ہم آہنگی اوربرداشت کو فروغ دیں گے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے نبی کریمﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے لیے بہت بڑا سرمایہ حیات ہے، طائف میں مخالفین نے پتھر برسائے لیکن جواب میں نبی کریم ﷺنے جو ارشاد فرمایا وہ قیامت تک محفوظ رہے گا، وہ ایک ایسا پیغام ہے جس سے تحمل اور برداشت کو فروغ ملتا ہے۔نبی پاک ﷺبرداشت اور رواداری کا مکمل پیکر تھے،ان کی تعلیمات امن اور بھائی چارے پر مبنی ہیں،صلح حدیبیہ بھی اسی طرح کی ایک عظیم مثال ہے ، جب مکہ فتح ہوا تو حضور اکرم ﷺکے بدترین مخالفین بھی کہہ رہے تھے واقعی آپ اللہ کے سچے نبی ہیں،ہم سے غلطی ہوئی، تحمل برداشت، بھائی چارے اور باہمی تعلقات کو فروغ دینے کا آپ کا پیغام اتنا مضبوط ہے کہ ہماری سوچ اور ہمارا سرداری نظام اس کے آگے کچھ بھی نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ آج دوبارہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو فروغ دیں، تمام مذاہب اور حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات امن ،بھائی چارے اور باہمی تعلقات کو فروغ دینے کا درس دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحمل اور برداشت کی اقدار کو اگر ہم فروغ دیں تو پاکستان کا معاشرہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا، اللہ تعالیٰ پاکستان کو ایک عظیم ملک بنائے جس میں تمام مکاتب فکر اور تمام مذاہب کے لوگ امن اور چین کی زندگی بسر کریں، آئیے اج ہم اس کا عہد کریں اور عملی میدان میں عملی ثبوت دیں
۔وفاقی وزیر قانون انصاف و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سماجی اور معاشی سطح پر رواداری کو پروان چڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے، نبی پاک ﷺکا اسوہ حسنہ ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے،برداشت اور رواداری کا کلچر ہمارا طرہ امتیاز رہا ہے، عدم برداشت کو شکست دے کر معاشرے میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ سابق سینیٹر کامران مائیکل نے کہا کہ ہم پاکستان کو سنواریں گے نکھاریں گے اور منفی سوچ کی نفی کرنی ہے ملک کو آگے لے کر چلنے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہمیشہ کردار ادا کیا ہے۔ چیئر پرسن این سی ایس ڈبلیو ام لیلیٰ اظہر نے کہا کہ یہ دن ہمیں پر امن بقائے باہمی کی تعلیم دیتا ہے۔
اس موقع پر یو این ڈی پی پاکستان کے ریزیڈنٹ نمائندے ڈاکٹر سیموئل رزک کا ویڈیو پیغام بھی سنایا گیا جبکہ معروف گلوکار اریب اظہر نے صوفیانہ کلام پیش کیا۔
تقریب میں وفاقی وزراء ،ارکان پارلیمنٹ اور دیگر ممتاز شخصیات بھی موجود تھیں ۔











