اسلام آباد، 24 نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک سے خوراک و زراعت کی اقوام متحدہ کی تنظیم کے وفد نے ملاقات کی، جس کی قیادت لینڈ اینڈ واٹر ڈویژن کے ڈائریکٹرلافینگ لی کر رہے تھے۔ ملاقات میں پاکستان میں پائیدار اراضی کے انتظام، آبی وسائل کے مؤثر استعمال، اور موسمیاتی لچکدار ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر گفتگو ہوئی۔
لافینگ لی نے پاکستان کی موسمیاتی کمزوریوں کے پیشِ نظر فوڈ سسٹمز اور قدرتی وسائل کے بہتر انتظام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان میں ایف اے او کے جاری منصوبوں پر بریفنگ دی جن میں زمینی کٹاؤ کی روک تھام، دریائے سندھ کے وسائل کے بہتر استعمال، اور پانی کے نظم و نسق میں بہتری کے اقدامات شامل ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کنٹری پروگرامنگ فریم ورک 2023-2027 کے ساتھ ساتھ بھی پیش کیا، جو مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے ایف اے او کی معاونت کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایسے شعبوں کو ترجیح دی جانی چاہیے جہاں عوامی شرح منافع کم ہے، خصوصاً استعداد کار میں اضافہ اور ادارہ جاتی مضبوطی۔ انہوں نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے تعاون سے گرین کلسٹرز قائم کرنے کی بھی بات کی، جن کا مقصد ماحول دوست کاروباری منصوبوں پر کام کرنے والے نوجوان پاکستانیوں کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے جوڑنا ہے۔
وفاقی وزیر نے انتظامی تعاون، استعداد کار میں اضافے، عوامی و نجی شعبوں کے اشتراک اور دیگر متعلقہ فریم ورکس پر مبنی مؤثر اور منظم تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ موسمیاتی منصوبوں کے لیے وہ قرضہ جات استعمال نہیں ہونے چاہئیں جو تعلیم، صحت اور انسانی ترقی جیسے اہم شعبوں کے لیے مختص کیے گئے ہوں، کیونکہ ایسے اقدامات پاکستان کی کے حصول کی رفتار کو متاثر کرتے ہیں۔
آخر میں ڈاکٹر ملک نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی منصوبہ بندی میں وزارت کا فعال کردار، اور وفاق، صوبوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان مؤثر حکمتِ عملی کا ہم آہنگ ہونا دیرپا نتائج کے لیے ناگزیر ہے۔











