اسلام آباد،14نومبر (اے پی پی):پاکستان افغان سرزمین سے پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کو بالکل برداشت نہیں کرے گا، تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور دیگر ملیشیا گروہ پاکستان کے دشمن ہیں، انہیں کسی بھی طرح کی سہولت فراہم کرنے والے کو پاکستان اور اس کے عوام کا دوست نہیں سمجھا جا سکتا۔ جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران واضح طور پر کہا کہ پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کو “پاکستان دشمن” قرار دیتے ہوئے ترجمان نے خبردار کیا کہ انہیں سہولت فراہم کرنے والے کسی بھی ملک کو پاکستان اور اس کے عوام کا دوست نہیں سمجھا جا سکتا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی ترجیحات پر سخت پیغام دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ سفیر طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان میں 2021ء سے افغانستان سے شروع ہونے والے دہشت گرد حملوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جبکہ پاکستان نے کابل میں انسانی ہمدردی اور تجارتی سہولیات کی فراہم کا عمل جاری رکھا تاہم افغان عبوری حکام پاکستان کو نشانہ بنانے والے مخصوص گروہوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو پناہ گزین کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف افغانستان میں مقیم تصدیق شدہ پاکستانی شہریوں کو وصول کرنے کے لیے تیار ہے اور صرف اس صورت میں جب انہیں سرکاری سرحدی گزرگاہوں پر باضابطہ طور پر حوالے کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو بھی ہتھیاروں کے ساتھ دھکیلا نہیں جا سکتا۔طالبان انتظامیہ کے اندر کچھ لوگوں کی جانب سے نسلی جذبات کو بھڑکانے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک موقف ہے، پشتون قوم پرستی پر مبنی بیانیے یا پاکستان کی پالیسی کے اندر تقسیم کے دعوے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کریں گے۔ 7 نومبر کو ترکیہ اور قطر کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور کے استنبول اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کی ثالثی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیش رفت کا انحصار کابل پر ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی تشویش افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کی موجودگی ہے۔ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے تصدیق کی کہ اردن کے شاہ عبداللہ دوئم ابن الحسین 15 اور 16 نومبر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ اردن کے فرمانروا صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کریں گے جس کے ایجنڈے میں دفاع، تجارت، علاقائی امن اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون میں اضافہ شامل ہے۔
انہوں نے آذربائیجان کے یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر صدر الہام علیوف کی دعوت پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے باکو کے حالیہ دورے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے دیرینہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور سیاست، توانائی، رابطے، تجارت اور دفاع میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، وزیراعظم نے آذربائیجان کو آرمینیا کے ساتھ تاریخی امن معاہدے پر مبارکباد دی اور مسئلہ کاراباخ پر پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا، باکو کے یوم فتح کی عظیم الشان پریڈ میں پاک فوج کے ایک دستے نے بھی حصہ لیا، وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے بھی ملاقات کی۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے 11 نومبر کو بین پارلیمانی سپیکرز کانفرنس کی کامیابی سے میزبانی کی جس میں وزیر اعظم، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اور بیلاروس، متحدہ عرب امارات، شام اور دیگر ممالک کے وفود نے شرکت کی۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ نائب وزیر اعظم نے دوسرے دن کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی اور دورے پر آئے ہوئے کئی پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ بات چیت میں پارلیمانی تعاون، علاقائی رابطے اور امن کے فروغ میں قانون سازوں کی مشترکہ ذمہ داری پر توجہ مرکوز کی گئی۔
سفیر طاہر حسین اندرابی نے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام چھٹے مارگلہ ڈائیلاگ کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی جس میں “عالمی نظام کا مستقبل: تعاون یا محاذ آرائی” کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نائب وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں متنبہ کیا کہ یکطرفہ ، بلاک کی سیاست اور بڑھتی ہوئی تجارتی جنگوں کی وجہ سے کثیرالجہتی نظام ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کثیرالجہتی اداروں کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی قانون، عالمی امن اور پائیدار ترقی کے وعدوں کو تقویت دینے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت اپنے اگست 2025ء کے فیصلے کے پہلوؤں پر ثالثی عدالت کی وضاحتوں کو نوٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارت نے اس میں حصہ لینا معطل کر رکھا ہے، لیکن بھارت کی درخواست پر شروع ہونے والے غیر جانبدار ماہر کی کارروائی جاری رہے گی ۔ بھارتی وزارت خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری تجربات سے متعلق بیان کو پاکستان کے جوہری ریکارڈ سے جوڑنے کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بھارت کے بیانات کو تحریف اور غلط بیانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے آخری بار 1998ء میں جوہری تجربات کیے تھے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل حمایت کی ہے جس میں جوہری تجربات پر عالمی پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے پاکستان کے محفوظ اور مضبوط جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا موازنہ حالیہ برسوں میں جوہری مواد کی چوری اور غیر قانونی سمگلنگ کے بھارت کے خطرناک ریکارڈ سے کیا۔ طاہر حسین اندرابی نے جارجیا-آذربائیجان سرحد کے قریب سی 130 طیارے کے المناک حادثے پر ترکیہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ پاکستان کے گہرے دکھ اور دلی تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے میڈیا اراکین کا شکریہ ادا کیا اور سفارتی رابطوں، علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر شفاف رابطوں کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔











