اسلام آباد،20نومبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ ہمیں صحت کے نظام میں مزید جدت اور بہتری لانی ہے،حادثات کی صورت میں زخمیوں کے لیے فوری رد عمل اورزخمیوں کی بحالی کے لیے صحت کے نظام میں تبدیلیاں ضروری ہے، صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں بروقت بحالی اور زخمیوں کی بعد از نگہداشت کو ایک اختیاری عمل سمجھا جاتا رہا ہے اور اسی سوچ کی وجہ سے طبی، سماجی اور معاشی سطح پر بھاری قیمت ادا کرنے سے خاندان غربت کا شکار ہوتے ہیں، مزدور روزگار سے محروم ہو جاتے ہیں اور ملک کی پیداواری صلاحیت میں اربوں روپے کا نقصان اٹھاتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ حقیقت حوصلہ افزا ہے اور یہ بوجھ روکا جا سکتا ہے،دنیا بھر اور پاکستان میں موجود شواہد واضح کرتے ہیں کہ بروقت بحالی، بہتر ٹراما سسٹم، محفوظ سفری پالیسیاں اور فعال معاون ٹیکنالوجی معذوری کو روک سکتی ہیں، عزتِ نفس بحال کر سکتی ہیں اور طویل المدتی اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں،مسائل حل نہ ہونے کا سبب مربوط اقدامات کی عدم موجودگی ہے۔ا
نہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اسے ثانوی خدمت نہیں بلکہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کا بنیادی حصہ تصور کرتی ہےیہ خدمات ضلعی سطح پر قابلِ رسائی ہونی چاہئیں، بنیادی صحت کے نظام میں شامل ہوں اور مضبوط ریفرل نیٹ ورک کے ذریعے ہر سطح پر دستیاب ہوں۔
وزیر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کو صحت کی بنیادی سہولیات حاصل کرنے کے لیے وزیرستان سے اسلام آباد، مردان سے لاہور یا بلوچستان سے کراچی تک سفر نہیں کرنا چاہیئے،حکومت ایک ایسا پاکستان بنانے کے لیے پرعزم ہے جہاں صحت کی سہولیات گھر کے قریب میسر ہوں اور صحت کا نظام لوگوں کو صرف زندہ رکھنے کے بجائے ان کی فعالیت، روزگار، تعلیم اور ترقی میں مددگار ثابت ہو۔انہوں نے صوبائی حکومتوں، طبی ماہرین، تعلیمی شراکت داروں اورخصوصاً معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے رہنمائی فراہم کی۔











