نیو یارک، 21 نومبر ( اے پی پی):یوکرین کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں قومی پالیسی بیان دیتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ یوکرین میں برسوں سے جاری لڑائی نے تمام فریقوں پر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام فریق ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں، اور ایک پائیدار اور بامقصد مذاکراتی عمل کے ذریعے جنگ بندی کے لیے سنجیدگی سے کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم امن کے لیے تازہ کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، جن میں ترکیہ اور قطر کی ثالثی کی کوششیں شامل ہیں۔ ایسا حل جو تمام متعلقہ فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو، ہتھیاروں کو خاموش کرا سکتا ہے اور دیرپا امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین تنازعے کے پیچیدہ تاریخی پس منظر اور اس کی گتھیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاکستان سمجھتا ہے کہ آئندہ کا راستہ تصادم اور مسلسل لڑائی کے بجائے دانش مندی، مکالمے اور سفارت کاری سے ہی نکلتا ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں، ایسے بامعنی، منظم اور نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل ہوں جو تمام فریقوں کے سکیورٹی خدشات کا احاطہ کریں؛ جو اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں سے ہم آہنگ ہوں؛ اور متعلقہ کثیرالفریقی معاہدوں کا احترام کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مکالمے اور سفارت کاری کی طاقت پر پختہ یقین رکھتا ہے اور مسئلے کے منصفانہ، جامع، پائیدار اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی ہر کاوش کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے اس امر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ لڑائی کے دائرے کے پھیلاؤ، شہری آبادی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے، اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال نے المیے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔











