اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا امن کے لیے اصولی قیادت، مؤثر کثیرالجہتی نظام اور سلامتی کونسل اصلاحات پر زور

14

اسلام آباد، 16 دسمبر (اے پی پی): پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے میں “امن کے لیے قیادت” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے عالمی سطح پر بڑھتے تنازعات، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں اور کثیرالجہتی نظام پر دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی حالات میں اصولوں پر مبنی قیادت، پیش بندی، مکالمہ، تعاون اور اقوامِ متحدہ کے منشور سے وفاداری ناگزیر ہے، جبکہ بین الاقوامی قانون کے انتخابی اطلاق سے پائیدار امن ممکن نہیں۔ سفیر نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش مالیاتی خلا پُر کرنے کے لیے فوری اقدامات، رعایتی مالی معاونت اور قرضوں میں ریلیف پر زور دیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے ایک مضبوط اور فعال سیکریٹری جنرل کے کردار کو سراہتے ہوئے آرٹیکل 99 کے پیشگی استعمال کی حمایت کی اور سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ تنازعات کے پُرامن حل،آئی سی جے کے فیصلوں پر عمل درآمد اور دوہرے معیار سے گریز کو یقینی بنائے۔

انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کو ناگزیر قرار دیا اور سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کہا۔ اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے یونائٹنگ فارکنسینسَس کی تجویز کو عملی اور جامع ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصلاحات سب کے لیے ہوں، کسی کے لیے مراعات نہیں۔

سفیر نے کہا کہ امن اجتماعی کاوش سے ہی ممکن ہے اور پاکستان انصاف،قانون کی حکمرانی اور مؤثر کثیرالجہتی نظام کے فروغ کے لیے رکن ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔