اسلام آباد،31دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے معاشی بہتری کیلئے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل فیصلوں کے نتائج سامنے آ رہے ہیں ، دو سال کے دوران پاکستان نے بہترین معاشی ترقی کی ہے، غیر متزلزل عزم سے چیلنجز کامقابلہ کیا اور ملک کو درست سمت میں گامزن کر دیا، اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو کامیابی ہمارا مقدر ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں اقتصادی گورننس اصلاحات کی تقریب رونمائی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر خزانہ سینیٹرمحمد اورنگزیب سمیت وفاقی وزراء ، حکومت کی معاشی ٹیم کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے حکومت کی معاشی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جب اقتدار سنبھالا تو ہمیں شدید چیلنجز کا شکار معیشت ورثے میں ملی، چیلنجز کے باوجود ہم نے ملک کو دوبارہ درست سمت میں ڈال دیا ہے، ہمارے سامنے بڑے چیلنجز تھے جن سے نمٹنا آسان نہ تھا، معاشی طور پر ہم مشکلات میں گھرے ہوئے تھے، افراط زر تقریباً 30 فیصد تک پہنچ چکا تھا، زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے تھے لیکن ہم نے مشکل کام کا بیڑا اٹھایا ، مسلم لیگ ن کیلئے یہ صورت حال پہلی بار نہیں تھی۔ اس سے قبل 1997ء میں ہم نے معاشی پابندیوں اور عالمی تنہائی کا مقابلہ کیا، 2013ء میں بھی توانائی بحران اور دہشت گردی کا چیلنج درپیش تھا، ہم اس سے بھی احسن طریقے سے نبرد آزما ہوئے، 2024ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی بہت مشکل اور تیزی سے فیصلے کیے کیونکہ پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنا تھا۔ مشکل فیصلوں کے نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.3 ارب ڈالر سے تبدیل ہو کر 1.9 ارب ڈالر کے سرپلس میں بدل چکا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تقریباً 8 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد سے زائد ہو گیا ہے، گزشتہ 2 سال میں پاکستان نے بہترین معاشی ترقی کی ہے۔وزیر اعظم نے حکومت کی اہم کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ افراط زر 29.2 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ چکا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 9.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 21.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، 10 لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے ہیں، حکومتی نظام کو وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل پر منتقل کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود ہم نے ملک کو دوبارہ درست سمت میں ڈال دیا ہے، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کامیابیوں کا اعتراف کیا جارہا ہے ، عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے حکومت کی معاشی بہتری اور اصلاحات کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی اصلاحات آسان کام نہیں تھا، پاکستان سرمایہ کاری کیلئے پرکشش ملک بن چکا ہے ، اقتصادی اصلاحات پاکستان کے بہتر مستقبل کا پتہ دے رہی ہیں ، ہم کاغذی نہیں ، عملی اقدامات کر رہے ہیں ۔ انہوں نے معاشی بہتری کے لئے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ الحمداللہ اصلاحات کا سفر درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، انشاء اللہ ہم اپنے اہداف مکمل کریں گے۔ انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کو بڑا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی نجکاری عرصہ دراز سے التواء کا شکار تھی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پونے دو سال میں یہ اصلاحات کوئی آسان کام نہیں تھا، دہائیوں سے یہ اصلاحات تاخیر کا شکار رہیں اور انہیں عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا، تاخیری حربے استعمال ہوتے رہے۔ وزیر اعظم نے سٹرکچرل ریفارمز کو حکومت کااہم ایجنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری اپنی ضرورت ہے، اس کے بغیر پاکستان ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن نہیں ہوسکتا ، بین الاقوامی اداروں کی مشاورت سے ہم نے جو اصلاحات کی ہیں یہ ہمارے اپنے مفاد میں ہیں، ہم اپنے عوام کو جوابدہ ہیں، عوام نے ہمیں جو ذمہ داری دی ہے اس سے احسن طریقے سے عہدہ برآ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن پہلی بار عمل میں آئی ہے ، مالی نظم و ضبط بحال اور سرکاری مالیاتی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے ، پاکستان کو کاروبار کے لئے زیادہ آسان ملک بنانے پر توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن صرف اصلاحاتی پروگرام کے آغاز کا نہیں غور و فکر اور عزم کی تجدید کا دن ہے۔ وزیر اعظم نے اقتصادی اصلاحات کے سلسلے میں کام کرنے والی حکومتی ٹیم اور کابینہ کے ممبران کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ طویل اور سخت سفر ہے، ابھی مزید چیلنجز کا سامنا ہے، غیر متزلزل عزم سے آگے بڑھتے رہے اور سخت محنت سے کام کیا تو کامیابی ہمارا مقدر ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم آفس میں منعقدہ تقریب میں وزیراعظم کی اقتصادی گورننس اصلاحات کا باضابطہ آغاز کیا گیا جو معیشت کو محض کلی معیشت کے استحکام کے مرحلے سے نکالتے ہوئے نمو پر مبنی اور اصلاحات پر مرکوز اقتصادی فریم ورک کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کی علامت ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اصلاحات کے ایجنڈے پر جامع بریفنگ دی۔ پاکستان کی معاشی بحالی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کلی معیشت کے مضبوط ،استحکام اوراہم معاشی اشاریوں میں بہتری پرتفصیل سے روشنی ڈالی۔ وزیرخزانہ نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال(2024-25) میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 3.1 فیصد رہی جو مالی سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں مزید بڑھ کر 3.71 فیصد تک پہنچ گئی، مہنگائی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، مالی سال 2025ء میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 4.5 فیصد رہی،مالی سال 2026ء کے ابتدائی پانچ مہینوں کے دوران موسمیاتی عوامل کے باوجود افراط زر کی شرح 5 فیصد کی سطح پر رہی۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ مالی نظم و ضبط کا مظاہرہ مالی سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی فاضل(فسکل سرپلس) کے حصول سے ہوا جو مالی سال 2025ء کی پہلی سہ ماہی کے بعد دوسری مرتبہ ہواہے، پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 2.7 فیصد تک پہنچ گیا۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ محصولات کے شعبے میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجہ میں بہتری کا ثبوت ایف بی آر کے جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں میں اضافہ اضافے سے ملا ہے جو مالی سال 2025ء میں بڑھ کر 10.2 فیصد ہو گیا جو گزشتہ 25 برسوں میں بلند ترین سطح ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ مالی سال 2023ء میں جی ڈی پی کے تناسب سے سرکاری قرضوں کاحجم مالی سال 2025ء میں 75 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد رہ گیا۔ قرضوں کی بروقت ادائیگی سے 3.5 ٹریلین روپے کی بچت ہوئی، پالیسی ریٹ جون 2024ء کے 22 فیصد کی سطح سے کم ہو کر 10.5 فیصد کی سطح پر آ گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے بیرونی اور مالیاتی شعبے کے اشاریوں میں نمایاں بہتری پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے جبکہ درآمدی ضروریات کے لیے زرمبادلہ کی کوریج بڑھ کر 2.6 ماہ ہو گئی،مالی سال 2026ء کے ابتدائی پانچ مہینوں میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ 812 ملین امریکی ڈالر رہا جو مقررہ ہدف کے اندر ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ مالی سال 2025ء میں ترسیلاتِ زر بڑھ کر 38 ارب امریکی ڈالر ہو گئیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعہ سمندرپار پاکستانیوں کی ترسیلات زر کا حجم 11.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ مستحکم شرح مبادلہ، نجی شعبے کو قرضوں میں توسیع اور پاکستان سٹاک ایکسچینج کی شاندار کارکردگی جو 2025ء کے دوران امریکی ڈالر کی بنیاد پر 52 فیصد تک بڑھی،سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی عکاسی ہو رہی ہے، نئے سرمایہ کاروں کی ریکارڈ رجسٹریشن، آئی پی اوز میں نمایاں اضافہ اور کمپنیوں کی تقریباً مکمل ڈیجیٹل رجسٹریشن سے مارکیٹ کی گہرائی اور دستاویزی معیشت کے فروغ کی عکاسی ہو رہی ہے ۔ اصلاحات کے ڈھانچے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے بتایا کہ ٹیکسیشن، توانائی، نجکاری، سرکاری ملکیتی اداروں، ڈیجیٹل گورننس، ٹیرف کی معقولیت، پنشن اصلاحات، وفاقی حکومت کے حجم میں کمی (رائیٹ سائزنگ) اور قرضوں کے انتظام سمیت متعدد شعبوں میں کلیدی ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عملدرآمد جاری ہے۔ انہوں نے موڈیز، فچ، ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز،بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے مثبت توثیق کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر کاروباری اور صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا بھی حوالہ دیا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ وزیراعظم کا وژن ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید مضبوط بنانے پر مرکوز ہے جن میں مارکیٹ گورننس کی بہتری، ریگولیٹری اور ٹیکس پالیسی کی پیش گوئی کے قابل استحکام ہونے کو یقینی بنانا، عوامی مالیات اور سرمایہ کاری کے نظم و نسق کو مستحکم کرنا اور معاہدوں کے مؤثر نفاذ کو بہتر بنانا شامل ہے۔ اس وژن کا مرکزی نکتہ حکومت کے تمام اداروں پر مشتمل نتائج پر مبنی اصلاحاتی منصوبہ ہے جو 6 سے 36 ماہ کے دورانیے پر محیط ہے جس کا مقصد ترقی ونمو کی رفتار کو برقرار رکھنا ہے۔ ترجیحی اقدامات میں محصولات اور خریداری کے نظام میں آٹومیشن اور ڈیجیٹائزیشن،ضابطہ جاتی نگرانی کے ذریعے ادارہ جاتی ہم آہنگی، ترقی پر مبنی عوامی سرمایہ کاری، ای پی اے ڈی ایس (ای پیڈز) کے ذریعے شفاف خریداری، قدر پر مبنی ٹیکس پالیسی، آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے تحت ریگولیٹری جدید کاری اور خصوصی عدالتوں و ٹربیونلز کی ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے تنازعات کے تیز تر حل شامل ہیں۔ پریزنٹیشن کے اختتام پر وفاقی وزیر خزانہ نے اصلاحات کے نفاذ کے اگلے مرحلے کا خاکہ پیش کیا جو تین بنیادی شعبوں پر مشتمل ہوگا، نگرانی سینئر کابینہ کرے گی، وزارت خزانہ سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرے گی اور ترقیاتی شراکت دار خصوصی تکنیکی یونٹ کی معاونت فراہم کریں گے تاکہ پالیسی پر مسلسل مکالمہ اور اصلاحات کا تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔











