اسلام آباد،15 دسمبر (اے پی پی): وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی کی زیرِ صدارت سکھر ریلوے ڈویژن سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ریلوے انفراسٹرکچر، مسافروں کی سہولیات اور سندھ میں جاری و آئندہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم پاکستان کی ہدایات پر وزیرِ ریلوے نے وزیراعلیٰ سندھ کے اشتراک سے صوبہ سندھ میں ریلوے ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔ کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن کی کامیاب اپ گریڈیشن کے بعد روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کا جامع ماسٹر پلان تیار کر لیا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں ماہ روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کے لیے ٹینڈر جاری کیا جائے گا جبکہ منصوبہ سندھ حکومت کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کی مجموعی لاگت کا 50 فیصد سندھ حکومت اور 50 فیصد پاکستان ریلوے برداشت کرے گی۔ روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن آئندہ سال جون تک مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیرِ ریلوے نے کہا کہ اپ گریڈیشن کے بعد روہڑی ریلوے اسٹیشن ملک کے جدید ترین اور بہترین ریلوے اسٹیشنز میں شامل ہوگا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ روہڑی اسٹیشن پر روزانہ 20 ہزار سے زائد مسافروں کی آمد و رفت ہوتی ہے جس کے پیش نظر سہولیات میں بہتری ناگزیر ہے۔ وزیرِ ریلوے نے روہڑی اسٹیشن کو پاکستان ریلوے کے ایک اہم جنکشن کے طور پر مزید مؤثر بنانے کا اعلان بھی کیا۔
اجلاس میں سندھ کی عوام کے لیے پاکستان ریلوے کی جانب سے بڑی خوشخبری دیتے ہوئے سکھر ریلوے اسٹیشن کو اس کی اصل تاریخی اور جمالیاتی حالت میں اپ لفٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سکھر ایکسپریس کے ریکس کی ریفربشمنٹ اور اپ گریڈیشن جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے روہڑی منصوبے اور دیگر ترقیاتی امور میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی جبکہ غیر محفوظ ریلوے کراسنگز کو محفوظ بنانے پر بھی تفصیلی توجہ دینے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ وزیرِ ریلوے نے وزیراعلیٰ سندھ کے تعاون کا خیرمقدم کیا۔
اجلاس میں مسافروں کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے سندھ فوڈ اتھارٹی کو خط ارسال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ وزیرِ ریلوے نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ فوڈ کوالٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔











