اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان قریبی تعاون کے ذریعے کاسا انرجی مارکیٹ کے قیام کی تجویز پیش کی ہے جو کہ یورپی انرجی گرڈ کے طرز پر خطے کے تمام ممالک کو قابلِ تجدید اور روایتی توانائی کے مکمل استعمال کا موقع فراہم کرے گی۔
سردار اویس لغاری نے یہ تجویز اسلام آباد میں کرغزستان کے وزیر توانائی ابراروف تالائبیک اوموکیوِچ کے ساتھ ملاقات کے دوران پیش کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر نے اپنے ہم منصب کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کاسا1000 منصوبے کے نفاذ کے لئے ایسی عملی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو دونوں خطوں میں کم قیمت بجلی کی موسمی دستیابی کو مدنظر رکھے۔ انہوں نے کہا کہ شریک ممالک کو باہمی مشاورت کے ساتھ منصوبے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینی چاہئے تاکہ اس کی معاشی افادیت یقینی بنائی جاسکے۔ انہوں نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے اس مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا استحکام براہِ راست علاقائی رابطوں سے جڑا ہے، اس لئے کسی بھی علاقائی منصوبے کی کامیابی قریبی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر نے آگاہ کیا کہ کاسا1000 کے تحت پاکستان کا حصہ 2026 کے وسط تک مکمل ہوجائے گا اور چونکہ پاکستان اور کرغزستان دونوں نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی ہے، اس لئے اس کی معاشی بہتری کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ سردار اویس لغاری نے کرغزستان–چین ٹرانسمیشن منصوبے کی فزیبلٹی میں پاکستان کے شمالی علاقوں کو شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ وفاقی وزیر نے مستقبل میں دوطرفہ توانائی تعاون کے لئے پانچ نکاتی فریم ورک پیش کیا جس میں ہائیڈرو پاور منصوبوں پر مشترکہ ورکنگ گروپ کا قیام، کاسا1000 کو آگے بڑھانے کے لئے مشترکہ اقدامات، پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کی شمولیت کے لئے خصوصی شعبوں کی فہرست کا تبادل، چین کرغزستان گرڈ انٹرکنکشن کی فزیبلٹی میں شمالی پاکستان کی شمولیت اور دوطرفہ تعاون کے لئے خصوصی ورکنگ گروپس کے قیام شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان حکام کی شمولیت میں کرغزستان کی معاونت انتہائی اہم ہے تاکہ خطے میں استحکام اور رابطہ کاری کو مضبوط بنایا جاسکے۔
دونوں ممالک نے اعلیٰ سطح پر روابط بڑھانے اور کاسا1000 سمیت دیگر مشترکہ منصوبوں کے چیلنجوں کو مل کر حل کرنے پر اتفاق کیا۔
اس سلسلے میں مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنے کیلئے پاکستان، کرغزستان، تاجکستان اور عالمی بینک کے ماہرین کی بشکیک میں ایک خصوصی تکنیکی میٹنگ منعقد کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔
کرغز وزیر توانائی نے گرمجوش میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے دوطرفہ رابطوں کو مزید مستحکم کرنے کی پاکستانی تجویز سے مکمل اتفاق کیا۔











